Bad e saba k lehje mai by Nighat Abdullah Novel20812
Bad e saba k lehje mai by Nighat Abdullah Novel20812
lFamily Drama | Emotional Romance | Social Fiction | Complete Urdu Novel
Short Description
بادِ صبا کے لہجے میں نگہت عبداللہ کا ایک انتہائی جذباتی اور خاندانی اردو ناول ہے جس میں محبت، رسم و رواج، بیوگی، ماں کی مامتا، قربانی، خاندانی انا اور جذباتی فیصلوں کی دل کو چھو لینے والی داستان بیان کی گئی ہے۔

جب محبت بچھڑ جائے تو ماں کی ممتا ہی جینے کا سہارا بنتی ہے۔
وہ سرخ جوڑا پہنے دلہن بنی اپنے ہمسفر کا انتظار کر رہی تھی جس نے پورے خاندان کی مخالفت لے کر اس چھوٹی سی لڑکی سے شادی کی تھی ۔جس کی عمر ابھی سترہ سال تھی۔۔ کمرے کا دروازہ کھولا اور اسکی ساس اندر داخل ہوئی وہ جو اپنی دل کی دھڑکن کو بے ترتیب ہونے سے روک رہی تھی ایک دم چونکی ۔۔ “لڑکی!” بی بی جان انہیں متوجہ کر کے کہنے لگیں، “تمہیں شاید خبر نہیں ہے لیکن تم ہمارے خاندانی رسم و رواج توڑ کر یہاں تک پہنچی ہو۔” یہ آواز ان کے حلق میں اٹک گئی۔ “ہاں، ہم تمہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہم غیر ذات و غیر برادری سے رشتے نہیں جوڑتے، نہ غیروں میں لڑکیاں دیتے ہیں اور نہ لیتے ہیں۔ غیر ذات و برادری سے آنے والی تم پہلی لڑکی ہو۔” قدرے توقف کے بعد، “ہم تمہیں یہاں لانے کے حق میں ہرگز نہیں تھے کیونکہ جن رسم و رواج کے ہم خود پاسبان ہیں، انہیں ہم کیسے توڑ سکتے تھے لیکن سلمان احمد کی ضد نے مجبور کر دیا۔ ہمیں تم سے کوئی شکوہ نہیں نہ ہی کوئی فرمائش، ظاہر ہے جسے میرا بیٹا اپنی عزت بنا کر لایا ہے، اسے ہم وہی مقام دیں گے جو پہلی بہوؤں کا ہے۔” عالیہ کو سمجھ میں نہیں آیا کہ جب کوئی شکوہ نہیں ہے تو پھر وہ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔ کچھ الجھ کر دیکھا تو وہ بولیں، “تمہیں اپنی نئی زندگی کی ابتدا سے پہلے ہی ہم سے وعدہ کرنا ہوگا کہ تم ہمارے رسم و رواج کی پاسداری کروگی۔” “وعدہ؟” ان کا جی سوالیہ تھا، وہ بالکل نہیں سمجھیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔ “ہمارا مطلب ہے، تمہارے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد اس خاندان سے باہر نہیں جائے گی۔” بی بی جان نے اپنا مفہوم واضح کیا تو عالیہ کا سر چکرا کر رہ گیا، وہ کیا کہتیں کہ ابھی تو احساسات کو چھونے والے نے نئے راستوں کی آشنائی بھی نہیں بخشی تھی اور بی بی جان اس سے آگے کی بات کر رہی تھیں۔ “ہم تمہاری خاموشی کو کیا سمجھیں؟” بی بی جان اسی وقت جواب چاہتی تھیں اور عالیہ بیگم سوچ سوچ کر بولیں۔ “آپ بڑی ہیں، مالک ہیں بی بی جان! اللہ آپ کا سایہ ہم پر ہمیشہ سلامت رکھے۔ آپ کے ہوتے ہوئے ہمیں اپنے بارے میں سوچنے یا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی بھی آپ کو اختیار ہے اور آئندہ بھی آپ بااختیار ہوں گی۔” خوش ہو کر بی بی جان ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں، پھر جاتے جاتے بولیں، “دیکھو، سلمان احمد سب سے چھوٹا ہونے کے باعث خاصا لاپروا اور غیر ذمہ دار ہے اور میں چاہتی ہوں تم سمجھوتا کرنے کے بجائے اس میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرو۔” انہوں نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا، پھر ان کے جانے کے بعد گہری سانس لے کر پیشانی گھٹنوں پر ٹیک دی۔ پہلے مرحلے پر ہی بی بی جان بڑی خوبصورتی سے انہیں بے دخل کر گئی تھیں اور کچی عمر کے باعث عالیہ بیگم جان ہی نہ سکیں، وہ تو اس وقت اپنی محبت پا لینے کے نشے میں سرشار تھیں۔ ایک سال گزرتے پتا بھی نہیں چلا اور عالیہ بیگم ماں بن گئیں۔ انہیں عثمان کی صورت ایک خوبصورت مصروفیت ہاتھ آ گئی۔۔ بھئی عالیہ! ہمارے ایک نہیں ماشاء اللہ دو دو بچے ہیں لیکن ہم تو اس طرح ہلکان نہیں ہوئے،” بڑی بھابھی ان کے پاس آ کر سرزنش کرتیں، “تم نے تو ایک ہی بچے میں اپنا ہوش بھلا دیا ہے، ایک دو اور ہوں گے تو تم تو بالکل ہی فارغ ہو جاؤ گی۔” بھابھی نے مذاق اڑایا۔ “بس، اب میں مزید بچے نہیں پیدا کروں گی۔” اس وقت انہوں نے سرسری کہہ دیا تھا لیکن شاید اُن کے نصیب میں ہی یہی تھا کہ ابھی عثمان تین مہینے ہی کا تھا کہ سلمان احمد اس کے مستقبل کے خواب سجاتے سجاتے خود خواب ہو گئے۔ آفس سے واپسی پر ایک تیز رفتار بس نے اُن کی گاڑی کو ٹکر مار دی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ عالیہ بیگم کی دنیا اجڑ گئی۔ شاید جو خوبصورت مصروفیت ہاتھ آئی تھی، اسے نظر لگ گئی تھی کہ پھر مہینوں اس کی خبر نہیں رہی۔ انہیں یقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ جس نے عمر بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں، وہ اتنی جلدی ساتھ چھوڑ گیا۔ ایک ایک سے کہتیں: “وہ میری خاطر اپنے رواجوں سے لڑا تھا، پھر موت سے کیسے شکست کھا گیا؟” اماں، ابا اور سب بھائی شروع میں ہر دوسرے دن، پھر ہر ہفتے ان کے پاس آتے رہے۔ وہ لڑکی جسے کبھی ذرا سی سوئی چبھتی تھی تو سب بے چین ہو جاتے تھے، اس کا اتنا بڑا دُکھ سب کو تڑپائے دے رہا تھا۔ بس نہیں چلتا تھا کہ سلمان احمد کو لا کر اُن کے سامنے کھڑا کر دیں۔ عدت کی مدت ختم ہوئی تو ابا اور بڑے بھیا انہیں لینے آ گئے۔ ان کا کہنا بھی ٹھیک تھا کہ جس کی وجہ سے اس گھر سے ناتا تھا وہ ہی نہیں رہا تو اب یہاں رہنے کا کیا جواز۔ خود عالیہ بیگم کے لیے اب اس گھر میں کوئی کشش نہیں تھی اور کشش تو کہیں بھی نہیں تھی۔ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، یہاں رہیں یا وہاں۔ وہ بہت خاموشی سے مانی کی چیزیں سمیٹ رہی تھیں کہ بی بی جان آ گئیں۔ “تمہارے ابا تمہیں لینے آئے ہیں؟” پتا نہیں بی بی جان اطلاع دے رہی تھیں یا سوال کر رہی تھیں، ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ خالی خالی نظروں سے دیکھا تو وہ کہنے لگیں: “ہم تمہیں جانے سے نہیں روکیں گے لیکن مانی نہیں جائے گا۔” “مانی؟” انہوں نے بے اختیار اپنے بچے کی طرف دیکھا۔ “یہ اسی گھر کا بچہ ہے، یہیں رہے گا۔” “میں اس کی ماں ہوں۔” “ہمیں اس سے انکار نہیں، اسی ناطے ہم تمہیں یہاں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں لیکن بچہ یہاں سے لے جانے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے۔” “آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں بی بی جان! بھلا میں اور مانی۔۔۔” “عالیہ!” بی بی جان نے فوراً ٹوکا، “یہ بات اول روز طے ہو گئی تھی اور کیا تم نے ہم سے وعدہ نہیں کیا تھا؟” “میں نے ضرور وعدہ کیا تھا اور میں اب بھی اپنے وعدے پر قائم ہوں لیکن وقت تو آنے دیجیے، مانی بڑا ہوگا تو اسی خاندان میں رشتہ جوڑے گا۔” “اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ یہی رہے، ویسے بھی یہ ہمارا خون ہے اور ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ محرومیوں میں پروان چڑھے۔” بی بی جان کا اشارہ پتا نہیں کن محرومیوں کی طرف تھا، وہ تاسف سے بولیں۔ “میں اسے کسی محرومی کا احساس نہیں ہونے دوں گی۔” “یہ تم اب کہہ رہی ہو، لیکن جب کچھ وقت گزرنے کے بعد تمہارے باپ بھائی تمہارے لیے کوئی نیا راستہ سوچیں گے، تب ہمارے بچے کو محرومیوں سے کون بچائے گا؟” “نہیں!” وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑیں۔ “ایسا ممکن ہے عالیہ بیگم! اس لیے کہ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے۔” وہ اور شدت سے رونے لگیں تو بی بی جان اُٹھ کھڑی ہوئیں اور جاتے جاتے فیصلے کا اختیار انہیں دے کر بھی ہر دو صورتوں میں جیت اپنا مقدر کر گئیں، “تمہیں اختیار ہے، جانا چاہو چلی جاؤ، ہم تمہیں نہیں روکیں گے۔ یہاں رہنا چاہو تب بھی کہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، البتہ بچہ یہیں رہے گا۔”
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
Complete Summary
بادِ صبا کے لہجے میں نگہت عبداللہ کا ایک درد سے بھرپور سماجی اور خاندانی اردو ناول ہے جو محبت، خاندانی روایات، ماں کی ممتا، قربانی اور معاشرتی رسم و رواج کے گرد گھومتا ہے۔
کہانی عالیہ کی ہے، جو کم عمری میں محبت کی خاطر ایک ایسے خاندان کا حصہ بنتی ہے جہاں صدیوں پرانے رسم و رواج ہر جذبات سے زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔ شادی کی پہلی رات ہی اسے خاندان کی سخت روایات اور بی بی جان کی شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر وہ اپنے شوہر سلمان احمد کی محبت پر یقین رکھتے ہوئے ہر شرط قبول کر لیتی ہے۔
ازدواجی زندگی کا مختصر مگر خوبصورت سفر اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب سلمان احمد ایک حادثے میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اچانک بیوہ ہونے والی عالیہ کی دنیا اجڑ جاتی ہے، لیکن اس کے ننھے بیٹے مانی کی صورت میں جینے کی ایک وجہ باقی رہتی ہے۔
عدت کے بعد جب اس کے والد اسے اپنے گھر لے جانے آتے ہیں تو خاندان کا سب سے بڑا امتحان سامنے آتا ہے۔ بی بی جان اعلان کرتی ہیں کہ عالیہ جا سکتی ہے، مگر مانی اسی خاندان میں رہے گا کیونکہ وہ ان کے خون اور نسل کا وارث ہے۔ ایک ماں کے لیے اپنے بچے سے جدا ہونے کا تصور بھی ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، مگر دوسری طرف خاندان کی روایات، وعدے اور بزرگوں کے فیصلے اس کی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں۔
ناول میں ایک ماں کی بے بسی، بیوگی کا کرب، خاندانی روایات، محبت کی یادیں، رشتوں کی آزمائش اور عورت کی قربانی کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہر موڑ پر قاری جذباتی کشمکش، درد اور امید کے نئے رنگ محسوس کرتا ہے۔
بادِ صبا کے لہجے میں یہ احساس دلاتا ہے کہ بعض اوقات محبت سے زیادہ طاقتور معاشرتی رسمیں ثابت ہوتی ہیں، مگر ایک ماں کا اپنے بچے کے لیے جذبہ ہر روایت سے بڑھ کر ہوتا ہے۔
Bad-e-Saba Ke Lehje Mein by Nighat Abdullah, Nighat Abdullah Novels, Complete Urdu Novel, Emotional Urdu Novel, Family Drama, Widow Novel, Mother’s Love, Social Novel
#BadESabaKeLehjeMein #NighatAbdullah #UrduNovel #FamilyDrama #EmotionalNovel #CompleteUrduNovel #MothersLove #Novelistan
FAQ
Bad-e-Saba Ke Lehje Mein kis type ka novel hai?
یہ ایک جذباتی، رومانوی اور خاندانی اردو ناول ہے۔
Is novel ki writer kaun hain?
اس ناول کی مصنفہ نگہت عبداللہ ہیں۔
Novel ka central theme kya hai?
ماں کی ممتا، خاندانی روایات، محبت، قربانی، بیوگی اور جذباتی تعلقات۔
Kya is novel mein family drama hai?
جی ہاں، ناول مکمل طور پر خاندانی تعلقات اور سماجی روایات کے گرد گھومتا ہے۔
Kya yeh complete Urdu novel hai?
جی ہاں، بادِ صبا کے لہجے میں ایک مکمل اردو ناول ہے۔
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕