Tu Rooh Hai Meri by Nisha Umar Novel20879
Tu Rooh Hai Meri by Nisha Umar Novel20879
Wanni Marriage | Revenge Romance | Enemies to Lovers | Tribal Romance | Forced Marriage | Emotional Romance | Family Drama | Strong Heroine | Pathan Culture | Complete Urdu Novel
Short Description
Tu Rooh Hai Meri by Nisha Umar ek intense emotional Urdu novel hai jahan qabeelay ki dushmani, badla, wanni ki rasam aur mohabbat ek doosre se takra jate hain. AliZay Darani apne bhai ki jaan bachane ke liye majbooran Asal Haider Khan se nikah karti hai, jabke Asal sirf inteqam ke liye usay apni zindagi ka hissa banata hai. Nafrat se shuru hone wala ye rishta dheere dheere mohabbat ki gehraiyon tak ka safar tay karta hai.

Tu Rooh Hai Meri – Emotional Wanni Marriage & Revenge Romance
” مجھے سلطان درانی کی بیٹی علیزے درانی ونی میں اپنے بستر پہ چاہیے۔۔ !” ” بکواس بند کرو بے غیرت انسان میری بیٹی معصوم ہے مجھ سے پندرہ سال چھوٹی ہے وہ!۔۔۔۔” سلطان درانی دھاڑے ” ٹھیک ہے پھر اپنے بیٹے کی لاش دیکھنے کے لیے تیار رہو۔”۔ سب کو سانپ سونگھ گیا کچھ ہی دیر میں وہ معصوم اس وحشی مرد سے اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے دلہن بنی۔ سب چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ وہ سلطان کی چھوٹی بیٹی کے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ اس کی دوسری بیٹی بھی تو تھی! “مجھے مت چھونا!۔۔۔ ” وہ پیچھے کو کھسک کر سسکنے لگی۔ ” تمہاری تو روح میں اتروں گا بے بی گرل۔۔ کہا تھا نہ نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔۔۔” بدلے کی آگ میں بہتا وہ اس کی ٹانگ کھینچ کر اپنی جانب کرتا اس کے ان چھوے وجود پر حاوی ہوا۔۔۔۔۔۔۔ علیزے اس کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جو اس کے سامنے کھڑا پوری شان ست مسکراتے ہوئے اس کی جانب دل جلاتی مسکراہٹ اچھال رہا تھا! ” یہ۔۔ سب تم نے۔ جان بوجھ کر۔۔۔ کیا ہے نہ؟۔۔۔” وہ غصے سے ماتھے پہ بل ڈالتے ہوئے بولی تو اصال حیدر خان کا دلکش قہقہہ کمرے کی زینت بنا۔۔۔ ” میں نے یہ سب کرنا چاہا تھا! مگر دیکھو! قسمت مجھ پہ اتنی مہربان ہے کہ اپنے آپ تمہیں میری جھولی میں ڈال دیا۔۔۔” وہ ہنوز ہنس رہا تھا جب کہ علیزے کا دل چاہ رہا تھا اس شخص کی مسکراہٹ نوچ لے۔۔۔۔ ” جھوٹ مت بولو میرے ساتھ! جانتی ہوں میں کیسے میرے باپ سے بھیک مانگی تھی کہ تمہیں علیزے درانی چاہیے۔۔۔ قسمت۔۔۔ مجھ جیسی لڑکی کم از کم تم جیسے مرد کی جھولی میں تو خود بخود نہیں آسکتی!۔۔۔ ” وہ شیر باپ کی شیر بیٹی تھی! اس نے ڈرنا اور جھکنا نہیں سیکھا تھا! وہ اپنے خاندان کی سب سے بہادر لڑکی تھی! اس کا تعلق ایک نڈر قبیلے سے تھا!۔۔۔۔” اس کی رگوں میں پٹھان کا خون تھا۔۔ وہ ایسے ہی تو جھکنے والوں میں سے نہ تھی۔۔۔ ” لگتا ہے میری بیوی کا دماغ کچھ خراب ہو چکا ہے کیوں کہ میں نے تمہارے باپ کو حکم دیا تھا بھیک نہیں مانگی تھی!۔۔۔۔ ” وہ ایک جست میں اس تک پہنچ کر اس کے غرور سے تنے چہرے کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ایک تنے چہرے کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتا پھنکارا تو وہ قہقہہ لگا گئی! اس مرد کو جلانا ہی تو چاہتی تھی وہ۔۔۔۔ اور وہ جل بھی رہا تھا! اس کو قابو کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ بچا تھا اس کے پاس۔۔۔ تبھی اگلے ہی پل اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لے کر اس کے لبوں پر ظلم ڈھانے لگا۔۔۔ علیزے کی سانسیں تھمیں۔۔ وہ آنکھیں پھاڑے اس مرد کو دیکھ رہی تھی جو رفتہ رفتہ اس کی سانسیں پیتا جا رہا تھا! اس کو لگا وہ سانس نہیں لے گی تو مر جائے گی؟ اپنے ہاتھوں کو اس کے کندھوں پر زور زور سے مارتی وہ اسے ہوش دلانے لگی۔ مھر مقابل اس کے لبوں کا جام پینے میں مصروف تھا! وہ یوں اس کے لبوں سے لپٹا تھا کہ پیچھے ہٹا تو مر جائے گا! دل تھا کہ بھر ہی نہیں رہا تھا! جب اسے لگا کہ اگر اب علیزے کو نہ چھوڑا تو وہ مر جائے گی تبھی وہ اس کے لبوں کو کچھ پل کی فراغت بخشتا اس کے ماتھے کے ساتھ ماتھا ٹکرائے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔ کون سا بدلہ کیسا بدلہ وہ تو ان لبوں کو پی کر سب بھول گیا تھا۔۔۔۔ ” تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی کے؟؟؟ میرے لبوں کو چھونے کی؟؟ تمہیں شرم نہیں آتی چھوڑو مجھے۔۔۔” وہ سرد پڑتی غصے سے پھنکارتے اپنا آپ چھڑوانے لگی جب کہ اصل حیدر خان نے قہقہہ لگاتے اس کی کمر کے گرد حصار تنگ کیا۔۔ ” کہا تھا نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔۔۔۔ کیا لگا تھا اتنی آسانی سے بھول جاؤں گا وہ تھپڑ جو تم نے میری گال پہ مارا تھا؟؟۔۔۔ ” آبرو اچکا کر پوچھتا وہ نگاہیں اس کے گال یہ ٹکا گیا۔۔ پہلی دفعه اصال حیدر خان نے علیزے درانی کی آنکھوں میں خوف کی لکیر دیکھیں تھی! جو اسے ایک آنکھ نہ بھائی! وہ اس کو بھپری ہوئی شیرنی ہی اچھی لگتی تھی! ” “مجھے چھوڑ دو۔۔۔” علیزے نے سسکتے ہوئے کہا۔۔ کوئی بھی مضبوط عورت جسم اور عزت کے معاملے میں مرد سے مضبوط نہیں سکتی۔۔ اس مقام پہ آ کر وہ ٹوٹ ہی جاتی تھی جیسے ابھی علیزے کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔ ” میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی یاد رکھنا۔۔۔۔” اس کو اپنی جانب زو معنی نگاہوں سے دیکھتے پاکر جس قدر غصے سے بولی اصال حیدر خان قہقہہ لگا اٹھا! ” میں بھی نہیں چاہتا ڈرلنگ کہ تم مجھے چھوڑو۔۔” اس کے گال یہ لب رکھتا وحشت سے بھر پور لہجے میں بولا تو خوف اس کی رگ رگ میں سرائیت کر گیا۔۔۔” تم میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔۔” اس کے ہاتھوں کو اپنے پہلو کی جانب بڑھتے دیکھ وہ وارن کرتے ہوئے بولی تو ایک پل کے لیے اس بھیگی بلی کو دیکھتا وہ ٹھہر سا گیا۔۔ ” جاؤ یہاں سے!۔۔۔ ” نہ جانے کیوں وہ اسے چھوڑ گیا تھا جب کہ آزادی ملتے ہی وہ وہاں سے بھاگی! دو سو کی اسپیڈ سے۔۔۔۔ ” میرے ماں باپ سے معافی مانگو گے تم۔۔” ان کے نکاح کو کافی ٹائم گزر چکا تھا۔۔ علیزے اس سے لڑ جھگڑ کر دو تین دفعہ اپنے گھر بات کر چکی تھی۔۔ جب کہ وہ بدلے کے لیے اسے لے کر آیا شخص اس کی ہر بات مانتا جا رہا تھا۔۔ وہ خود نہیں سمجھ رہا تھا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے! ” دماغ خراب ہو گیا یے کیا میرا؟۔۔۔۔” وہ جو لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا اسکی بات پر طنزیہ لہجے میں پوچھنے لگا جب علیزے نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔ ” تم نے ان سے بد تمیزی کی تھی!۔۔۔۔” جو تمہارے بھائی نے کیا تھا اس کا کیا؟؟ وہ اسے کچھ یاد دلانے لگا۔۔ ” آپ کے کزن کے کرتوت ہی ایسے تھے! نہ جانے ان پندرہ لڑکیوں کے علاوہ اور کتنی لڑکیاں اس نے برباد کی ہیں۔۔۔ اچھا ہوا میرے بھائی نے موت کے گھاٹ اتار دیا اسے مزید گناہ کرنے اور لڑکیوں کو برباد کرنے سے بچ گیا وہ شخص۔۔۔۔” وہ نفرت انگیز لہجے میں بول رہی تھی جب اس کے لہجے میں اس قدر نفرت دیکھتے ایک پل کے لیے اصال حیدر دنگ رہ گیا۔۔۔ ” کہیں آپ بھی تو یہی کام نہیں کرتے۔۔۔۔ ” اچانک ہی وہ مشکوک ہوئی تو وہ اپنا سر پکڑ گیا۔۔۔ یہ لڑکی ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات کر کے اس کا دماغ خراب کر دیتی تھی! ” اگر میں بھی یہ کام کر رہا ہوں تو تم کیا کرو گی؟؟۔۔۔” اچانک ہی وہ کچھ سوچ کر دانت پیستے ہوئے بولا تو وہ اس کی جانب دو پل کے لیے یوں ہی دیکھتی رہ گئی۔۔ ” تو میں اپنی بھائی کی پستول کی باقی کی گولیاں آپ کے سینے میں اتاروں گی۔۔۔۔” اس کا لہجہ اس قدر اٹل تھا کہ اصال حیدر خان اپنی شیرنی کا یہ روپ دیکھ کر نثار ہوا۔۔۔” مجھے تم سے یہی امید تھی چلو اب اپنی شکل گم کرو میں کام کر رہا ہوں۔۔۔” وہ اچانک سے اس کو غائب ہونے کا کہتا اپنے لیپ ٹاپ پہ جھکا جب کہ معافی والی بات وہ پھر سے گول کر چکا تھا۔۔ مجھے سلطان درانی کی بیٹی علیزے درانی ونی میں اپنے بستر پہ چاہیے۔۔ !” ” بکواس بند کرو بے غیرت انسان میری بیٹی معصوم ہے مجھ سے پندرہ سال چھوٹی ہے وہ!۔۔۔۔” سلطان درانی دھاڑے ” ٹھیک ہے پھر اپنے بیٹے کی لاش دیکھنے کے لیے تیار رہو۔”۔ سب کو سانپ سونگھ گیا کچھ ہی دیر میں وہ معصوم اس وحشی مرد سے اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے دلہن بنی۔ سب چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ وہ سلطان کی چھوٹی بیٹی کے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ اس کی دوسری بیٹی بھی تو تھی! “مجھے مت چھونا!۔۔۔ ” وہ پیچھے کو کھسک کر سسکنے لگی۔ ” تمہاری تو روح میں اتروں گا بے بی گرل۔۔ کہا تھا نہ نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔۔۔” بدلے کی آگ میں بہتا وہ اس کی ٹانگ کھینچ کر اپنی جانب کرتا اس کے ان چھوے وجود پر حاوی ہوا۔۔۔۔۔۔۔ علیزے اس کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جو اس کے سامنے کھڑا پوری شان ست مسکراتے ہوئے اس کی جانب دل جلاتی مسکراہٹ اچھال رہا تھا! ” یہ۔۔ سب تم نے۔ جان بوجھ کر۔۔۔ کیا ہے نہ؟۔۔۔” وہ غصے سے ماتھے پہ بل ڈالتے ہوئے بولی تو اصال حیدر خان کا دلکش قہقہہ کمرے کی زینت بنا۔۔۔ ” میں نے یہ سب کرنا چاہا تھا! مگر دیکھو! قسمت مجھ پہ اتنی مہربان ہے کہ اپنے آپ تمہیں میری جھولی میں ڈال دیا۔۔۔” وہ ہنوز ہنس رہا تھا جب کہ علیزے کا دل چاہ رہا تھا اس شخص کی مسکراہٹ نوچ لے۔۔۔۔ ” جھوٹ مت بولو میرے ساتھ! جانتی ہوں میں کیسے میرے باپ سے بھیک مانگی تھی کہ تمہیں علیزے درانی چاہیے۔۔۔ قسمت۔۔۔ مجھ جیسی لڑکی کم از کم تم جیسے مرد کی جھولی میں تو خود بخود نہیں آسکتی!۔۔۔ ” وہ شیر باپ کی شیر بیٹی تھی! اس نے ڈرنا اور جھکنا نہیں سیکھا تھا! وہ اپنے خاندان کی سب سے بہادر لڑکی تھی! اس کا تعلق ایک نڈر قبیلے سے تھا!۔۔۔۔” اس کی رگوں میں پٹھان کا خون تھا۔۔ وہ ایسے ہی تو جھکنے والوں میں سے نہ تھی۔۔۔ ” لگتا ہے میری بیوی کا دماغ کچھ خراب ہو چکا ہے کیوں کہ میں نے تمہارے باپ کو حکم دیا تھا بھیک نہیں مانگی تھی!۔۔۔۔ ” وہ ایک جست میں اس تک پہنچ کر اس کے غرور سے تنے چہرے کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ایک تنے چہرے کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتا پھنکارا تو وہ قہقہہ لگا گئی! اس مرد کو جلانا ہی تو چاہتی تھی وہ۔۔۔۔ اور وہ جل بھی رہا تھا! اس کو قابو کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ بچا تھا اس کے پاس۔۔۔ تبھی اگلے ہی پل اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لے کر اس کے لبوں پر ظلم ڈھانے لگا۔۔۔ علیزے کی سانسیں تھمیں۔۔ وہ آنکھیں پھاڑے اس مرد کو دیکھ رہی تھی جو رفتہ رفتہ اس کی سانسیں پیتا جا رہا تھا! اس کو لگا وہ سانس نہیں لے گی تو مر جائے گی؟ اپنے ہاتھوں کو اس کے کندھوں پر زور زور سے مارتی وہ اسے ہوش دلانے لگی۔ مھر مقابل اس کے لبوں کا جام پینے میں مصروف تھا! وہ یوں اس کے لبوں سے لپٹا تھا کہ پیچھے ہٹا تو مر جائے گا! دل تھا کہ بھر ہی نہیں رہا تھا! جب اسے لگا کہ اگر اب علیزے کو نہ چھوڑا تو وہ مر جائے گی تبھی وہ اس کے لبوں کو کچھ پل کی فراغت بخشتا اس کے ماتھے کے ساتھ ماتھا ٹکرائے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔ کون سا بدلہ کیسا بدلہ وہ تو ان لبوں کو پی کر سب بھول گیا تھا۔۔۔۔ ” تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی کے؟؟؟ میرے لبوں کو چھونے کی؟؟ تمہیں شرم نہیں آتی چھوڑو مجھے۔۔۔” وہ سرد پڑتی غصے سے پھنکارتے اپنا آپ چھڑوانے لگی جب کہ اصل حیدر خان نے قہقہہ لگاتے اس کی کمر کے گرد حصار تنگ کیا۔۔ ” کہا تھا نہیں چھوڑوں گا تمہیں۔۔۔۔ کیا لگا تھا اتنی آسانی سے بھول جاؤں گا وہ تھپڑ جو تم نے میری گال پہ مارا تھا؟؟۔۔۔ ” آبرو اچکا کر پوچھتا وہ نگاہیں اس کے گال یہ ٹکا گیا۔۔ پہلی دفعه اصال حیدر خان نے علیزے درانی کی آنکھوں میں خوف کی لکیر دیکھیں تھی! جو اسے ایک آنکھ نہ بھائی! وہ اس کو بھپری ہوئی شیرنی ہی اچھی لگتی تھی! ” “مجھے چھوڑ دو۔۔۔” علیزے نے سسکتے ہوئے کہا۔۔ کوئی بھی مضبوط عورت جسم اور عزت کے معاملے میں مرد سے مضبوط نہیں سکتی۔۔ اس مقام پہ آ کر وہ ٹوٹ ہی جاتی تھی جیسے ابھی علیزے کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔ ” میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی یاد رکھنا۔۔۔۔” اس کو اپنی جانب زو معنی نگاہوں سے دیکھتے پاکر جس قدر غصے سے بولی اصال حیدر خان قہقہہ لگا اٹھا! ” میں بھی نہیں چاہتا ڈرلنگ کہ تم مجھے چھوڑو۔۔” اس کے گال یہ لب رکھتا وحشت سے بھر پور لہجے میں بولا تو خوف اس کی رگ رگ میں سرائیت کر گیا۔۔۔” تم میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔۔” اس کے ہاتھوں کو اپنے پہلو کی جانب بڑھتے دیکھ وہ وارن کرتے ہوئے بولی تو ایک پل کے لیے اس بھیگی بلی کو دیکھتا وہ ٹھہر سا گیا۔۔ ” جاؤ یہاں سے!۔۔۔ ” نہ جانے کیوں وہ اسے چھوڑ گیا تھا جب کہ آزادی ملتے ہی وہ وہاں سے بھاگی! دو سو کی اسپیڈ سے۔۔۔۔ ” میرے ماں باپ سے معافی مانگو گے تم۔۔” ان کے نکاح کو کافی ٹائم گزر چکا تھا۔۔ علیزے اس سے لڑ جھگڑ کر دو تین دفعہ اپنے گھر بات کر چکی تھی۔۔ جب کہ وہ بدلے کے لیے اسے لے کر آیا شخص اس کی ہر بات مانتا جا رہا تھا۔۔ وہ خود نہیں سمجھ رہا تھا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے! ” دماغ خراب ہو گیا یے کیا میرا؟۔۔۔۔” وہ جو لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا اسکی بات پر طنزیہ لہجے میں پوچھنے لگا جب علیزے نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔ ” تم نے ان سے بد تمیزی کی تھی!۔۔۔۔” جو تمہارے بھائی نے کیا تھا اس کا کیا؟؟ وہ اسے کچھ یاد دلانے لگا۔۔ ” آپ کے کزن کے کرتوت ہی ایسے تھے! نہ جانے ان پندرہ لڑکیوں کے علاوہ اور کتنی لڑکیاں اس نے برباد کی ہیں۔۔۔ اچھا ہوا میرے بھائی نے موت کے گھاٹ اتار دیا اسے مزید گناہ کرنے اور لڑکیوں کو برباد کرنے سے بچ گیا وہ شخص۔۔۔۔” وہ نفرت انگیز لہجے میں بول رہی تھی جب اس کے لہجے میں اس قدر نفرت دیکھتے ایک پل کے لیے اصال حیدر دنگ رہ گیا۔۔۔ ” کہیں آپ بھی تو یہی کام نہیں کرتے۔۔۔۔ ” اچانک ہی وہ مشکوک ہوئی تو وہ اپنا سر پکڑ گیا۔۔۔ یہ لڑکی ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات کر کے اس کا دماغ خراب کر دیتی تھی! ” اگر میں بھی یہ کام کر رہا ہوں تو تم کیا کرو گی؟؟۔۔۔” اچانک ہی وہ کچھ سوچ کر دانت پیستے ہوئے بولا تو وہ اس کی جانب دو پل کے لیے یوں ہی دیکھتی رہ گئی۔۔ ” تو میں اپنی بھائی کی پستول کی باقی کی گولیاں آپ کے سینے میں اتاروں گی۔۔۔۔” اس کا لہجہ اس قدر اٹل تھا کہ اصال حیدر خان اپنی شیرنی کا یہ روپ دیکھ کر نثار ہوا۔۔۔” مجھے تم سے یہی امید تھی چلو اب اپنی شکل گم کرو میں کام کر رہا ہوں۔۔۔” وہ اچانک سے اس کو غائب ہونے کا کہتا اپنے لیپ ٹاپ پہ جھکا جب کہ معافی والی بات وہ پھر سے گول کر چکا تھا۔۔۔
“Apne bete ki laash dekhni hai ya beti ki rukhsati?”
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Sultan Darani aur Asal Haider Khan ke khandanon ke darmiyan dushmani us waqt naya mod leti hai jab Asal apne inteqam ke liye Sultan ki sab se chhoti aur masoom beti AliZay Darani ko wanni mein maang leta hai. Apne bhai ki jaan bachane ke liye AliZay majbooran us se nikah kar leti hai, lekin uska iraada kabhi bhi us zalim aur maghroor mard ke saamne jhukne ka nahi hota.
Asal Haider Khan ek taqatwar, sakht mizaj aur ghairatmand Pathan hai jo samajhta hai ke usne AliZay ko sirf badla lene ke liye apni zindagi mein shamil kiya hai. Magar AliZay ki himmat، bebaaki aur sach bolne ki aadat uske har faisle کو challenge karti rehti hai. Har mulaqat nafrat، tanz aur takraar se bhari hoti hai، lekin waqt ke saath Asal ko ehsaas hone lagta hai ke jis larki ko woh saza dena chahta tha، wahi uski zindagi ki sab se badi zarurat ban chuki hai.
Qabeelay ki riwayaat، khooni dushmaniyan، ghairat، inteqam، zabardasti ka rishta aur dheere dheere janam leti mohabbat is novel ko shuru se aakhir tak bepanah dilchasp banaye rakhti hai.
#TuRoohHaiMeri #NishaUmar #UrduNovel #RomanticNovel #ForcedMarriage #WanniMarriage #EnemiesToLovers #RevengeRomance #PathanRomance #FamilyDrama #EmotionalRomance #PakistaniNovel #CompleteNovel #Novelistan #UrduBooks #ReadOnline #LoveStory #BestUrduNovel #RomanticFiction #UrduReaders
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕