Monthly Archives: July 2026
Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852
بچپن میں ہوا ایک نکاح، جسے صنوبر نے ہمیشہ اپنا مقدر سمجھا، مگر مجید نے صرف ایک بوجھ۔ برسوں بعد جب والد نے اسے اس رشتے کی یاد دلائی تو اس نے بے رحمی سے طلاق کے کاغذات بھیجنے کی بات کر دی۔ مگر ایک بوڑھے باپ کی صرف ایک خواہش تھی... "طلاق مت دینا۔" صنوبر کو اس فیصلے کا علم بھی نہ تھا، لیکن اس کی پوری زندگی ایک ایسے وعدے کے سہارے کھڑی تھی جسے نبھانے یا توڑنے کا اختیار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔
Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel By Nahid Chaudhary novel20851
سب کے سامنے ہونے والی وہ چند تلخ باتیں البینہ کی پوری دنیا بدلنے کے لیے کافی تھیں۔ شہزیب نے غصے میں اسے "دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والی حقیر لڑکی" کہا تو یہ الفاظ اس کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔ زخمی دل کے ساتھ جب وہ نانو کے پاس پہنچی تو اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ معلوم ہوا۔ وہ جن لوگوں کو اپنا سب کچھ سمجھتی تھی، ان سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ ایک ہی دن میں اس کی محبتیں، اس کی پہچان اور اس کی پوری دنیا سوال بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، اور اب اسے صرف ایک جواب چاہیے تھا... آخر وہ حقیقت میں ہے کون؟
Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850
جب خولہ کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کا علم ہوا تو اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ مگر اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب اسفندیار نے نہ صرف اسے طلاق کی دھمکی دی بلکہ اس کے دونوں معصوم بیٹوں کو بھی اس سے چھین لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک بے بس ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چیختی رہی، مگر اس کے شوہر کے دل میں ذرا سی نرمی نہ آئی۔ گھر کی دہلیز پر ماں کی ممتا، شوہر کی بے وفائی اور ایک عورت کی عزت ایک ساتھ روندی جا رہی تھی، جبکہ بارش میں بھیگتا صحن اس دردناک منظر کا خاموش گواہ بنا کھڑا تھا۔
Khulain Naseeb Mere by Maha Malik Novel20849
وہ خاموشی سے اس کے ہر تلخ لفظ کو سہہ لیتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ قصور اس کا اپنا ہے۔ آخر وہ ایک سانولی، سادہ اور ان پڑھ گاؤں کی لڑکی تھی، جبکہ حیدر ہر لحاظ سے خوبصورت، تعلیم یافتہ اور باوقار انسان تھا۔ وہ سوچتی تھی شاید اس کے نصیب میں محبت لکھی ہی نہیں گئی۔ اگر اس کی موجودگی ہی حیدر کی اداسی اور بے چینی کی وجہ ہے تو پھر وہ خود ہی اس کی زندگی سے دور ہو جائے گی۔ محبت تو قربانی کا نام ہے، اور وہ اپنی محبت کی خاطر خاموشی سے واپس اسی گاؤں لوٹ جانے کا فیصلہ کر لیتی ہے جہاں سے کبھی دل میں ہزاروں خواب سجا کر آئی تھی۔ مگر کیا واقعی اس کی جدائی ہی دونوں کی تقدیر بنے گی، یا قسمت ابھی ایک نیا موڑ سنبھالے بیٹھی ہے؟
Esaret-i Ask Novel20848
شادی کی پہلی رات ہی ماہ زیب کو معلوم ہو گیا کہ اس کا شوہر کرار جعفر اس رشتے کو کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا۔ اس نے بے رحمی سے اعلان کیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور جلد دوسری شادی کرے گا۔ پھر اس نے ماہ زیب کو بستر سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور اس کی خاموشی پر اسے زبردستی گھسیٹ کر فرش پر پھینک دیا۔ اس رات ماہ زیب نے اپنے تمام خواب ٹوٹتے دیکھے، اپنے رب کے حضور سجدے میں آنسو بہائے اور صبر کی دعا مانگتی رہی، مگر آنے والے دن اس کے لیے اس سے بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوئے۔
Adal Aur Jaza Complete by Nayab Jeelani Novel20847
عدل بچپن کے ایک بھولے بسرے نکاح کو محض ماضی کی بات سمجھ کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا، مگر جزا آج بھی اسی رشتے کو اپنی قسمت مان کر ہر ظلم سہہ رہی تھی۔ نانی کے انتقال کے بعد مامی کے مظالم اس کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں اور آخرکار وہ ایک رات سب کچھ چھوڑ کر عدل کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ وہ گھر جہاں عدل اب اپنی دوسری بیوی کے ساتھ نئی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ ایک ہی چھت تلے ماضی، حال، محبت، فرض اور انصاف آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، اور یہی لمحہ اس کہانی کو ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جہاں ہر فیصلہ کسی نہ کسی کی زندگی بدل دیتا ہے۔
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔
Hum Haar Gaye By Fozia Akbar Sana Novel20845
شادی کی پہلی رات درِ نجف نے سوچا تھا کہ شاید اب اس کی مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر شہیم احمد نے اسے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ دیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ شادی صرف اس کی جان بچانے کے لیے کی گئی ہے، وہ اسے کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے وہ اس سے علیحدہ ہو جائے گا۔ درِ نجف خاموشی سے اس کی ہر تلخ بات سنتی رہی، مگر جب شہیم نے نفرت کی انتہا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جوتوں کی سیاہ پالش مل دی تو اس کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہو گئی۔ وہ پہلی بار ٹوٹنے کے بجائے اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور احتجاج کیا، مگر جواب میں اسے بے رحمانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی لمحہ اس کہانی کا سب سے دردناک موڑ بن جاتا ہے، جہاں ایک بے گناہ لڑکی کی آزمائش اور ایک سخت دل مرد کی نفرت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔
Teri Ulfat Me Sanam by Rubina Nadeem Novel20844
رخصتی سے چند لمحے پہلے نمی وصی احمر کے کمرے میں صرف ایک سوال لے کر جاتی ہے، مگر بات سوال سے بڑھ کر انا، غرور اور دل توڑ دینے والے الفاظ تک جا پہنچتی ہے۔ وصی کے جرمنی چلے جانے اور شادی سے فرار کی حقیقت جان کر نمی اسے صاف کہہ دیتی ہے کہ اگر آج اس سے دوبارہ پوچھا جاتا تو وہ کبھی اس سے شادی نہ کرتی۔ وہ اسے دوسری شادی کی تحریری اجازت بھی دے دیتی ہے اور واضح کر دیتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان صرف ایک رسمی رشتہ ہے۔ نمی کے یہ الفاظ وصی کے غرور پر کاری ضرب ثابت ہوتے ہیں۔ غصے میں وہ اعلان کر دیتا ہے کہ شادی کے بعد وہ خود اسے طلاق دے گا۔ دونوں ایک دوسرے کو ٹھکرا کر الگ ہونا چاہتے ہیں، مگر قسمت ان کے لیے ایک بالکل مختلف کہانی لکھ چکی ہوتی ہے۔
Bas Ik Dagh e Nidamat By Umera Ahmed Novel20843
مومل کے لیے سب کچھ اس وقت بدل گیا جب اسفند حسن نے انتہائی سکون سے بتایا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس نے مومل کو اختیار دیا کہ اگر وہ اجازت نہ دے تو وہ طلاق لے سکتی ہے، یہاں تک کہ گھر، حق مہر اور مالی تحفظ کا بھی بندوبست کر دیا۔ مگر مومل کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ دس سال کا رشتہ چند لفظوں میں ختم کیا جا رہا تھا۔ جب اس نے غصے میں فوراً طلاق کا مطالبہ کیا تو اسفند نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے بیٹی کی شادی ہو جائے، پھر وہ اسے طلاق دے دے گا۔ یہی لمحہ دونوں کی ازدواجی زندگی کا سب سے تلخ موڑ بن جاتا ہے، جہاں محبت سے زیادہ انا، خاموشی اور پچھتاوا بولنے لگتے ہیں۔