Tanhai Ka Ashiyana By Umm e Malaika Novel20943

Revenge Based | Romantic Drama | Family Conflict | Emotional Romance | College Life | Jealous Hero | Love & Betrayal

Short Description

A romantic revenge story filled with jealousy, hidden feelings, family conflicts, and emotional twists. What begins with playful teasing slowly turns into a complicated journey where love, revenge, and past wounds collide.

کراچی میں اس وقت گرم ہوائیں چل رہی تھیں، سورج سروں پر دہک رہا تھا۔ وہ ایک بجے کے قریب کالج کے باہر کھڑا علیشاء کا انتظار کر رہا تھا۔ علیشاء، گل کے ساتھ گیٹ سے باہر نکلی۔ شایان کی نظر ایک لمحے کو علیشاء پر رکی، پھر گل پر جا ٹھہری—ایسے جیسے کسی پسندیدہ پھول کی خوشبو دور سے ہی اپنی طرف کھینچ لے۔

علیشاء قدم قدم چلتی اس کے قریب آ گئی۔

“خیریت ہے بھائی؟ آج آپ کیوں لینے آئے ہیں؟” وہ اس کے سامنے آ کر رکی تو شایان کی خیالی دنیا سے واپسی ہوئی۔ علیشاء کی گھورتی نظروں نے اس کی خاموشی توڑی۔

“کیوں، نہیں آ سکتا کیا؟” وہ قدرے سنبھل کر بولا۔

“آ سکتے ہیں، لیکن آپ آتے نہیں ہیں۔” اس نے چبھتے لہجے میں کہا اور بائیک کے پیچھے بیٹھ گئی۔

“ہاں تو اب آؤں گا نا۔۔۔۔۔ تمہیں لینے ۔۔۔۔۔۔ وہ بھی روز۔” شایان نے بائیک اسٹارٹ کی۔

“مزاق نہ کریں۔” علیشاء نے فوراً تردید کی۔

“مزاق نہیں کر رہا۔ سچ کہہ رہا ہوں۔”

“اور آپ کی یونیورسٹی؟” سوال میں دلچسپی چھپی تھی۔

“میں مینج کر لوں گا، تم فکر نہ کرو۔”

“مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے؟” علیشاء نے شوخی سے کہا اور شرارتی انداز میں اس کے گرد بازو حائل کر دیے۔

“کچھ کالا نہیں ہے۔۔۔۔۔ تمہارا وہم ہے بس۔”

“تو پھر آپ کے دماغ میں کوئی کھچڑی پک رہی ہو گی۔”

“کوئی کھچڑی نہیں پک رہی۔۔۔۔۔ اگر تم ایسے ہی مجھے تنگ کرتی رہیں تو میں نہیں آؤں گا لینے کے لیے۔”

“خیر، وہ تو اب آپ ضرور آئیں گے۔” علیشاء نے نظریں گھماتے ہوئے کہا۔

“سوچتی رہو جو سوچنا ہے۔” شایان نے خود کو بچاتے ہوئے کہا۔ علیشاء خاموش ہو گئی۔

کچھ دیر بعد وہ پھر بولا، “ویسے ایک بات پوچھوں؟”

“جی جی پوچھیں۔۔۔۔۔”

“وہ جو لڑکی تمہارے  ساتھ باہر آئی تھی۔۔۔۔۔۔ تمہاری دوست ہے کیا؟”

“کون سی لڑکی؟”

“وہی، جو تمہارے ساتھ کالج سے باہر آئی تھی۔” شایان نے زور دے کر کہا۔

“اچھا گل۔۔۔۔۔ ہاں، دوست ہے میری۔ لیکن وہ سیکنڈ ایئر کی ہے، اور میں فرسٹ ایئر کی۔ ویسے آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ کہیں آپ کو وہ پسند تو نہیں آ گئی؟” علیشاء نے چھیڑا۔

“فضول باتیں نہ کرو۔ میں تو بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا۔”

“ویسے ہی پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔ اتنا پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟ اب سمجھ میں آیا آپ مجھے لینے کیوں آئے ہیں۔”

“تمہیں شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہوئے؟ شرم کرو علیشاء احمد۔۔۔۔۔ شرم کرو۔۔۔۔۔ میں نے تو بس یونہی پوچھ لیا، غلطی کر دی۔”

“ہاں ہاں، ٹھیک ہے۔ اب زیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے میں بتا دوں، گل آپ سے پورے دو سال چھوٹی ہے۔ آپ یونیورسٹی میں کوئی لڑکی ڈھونڈیں اپنے لیے۔”

“تم خاموش ہوتی ہو یا میں تمہیں یہیں چھوڑ کر چلا جاؤں؟” شایان نے مصنوعی غصے سے کہا۔

“اچھا اچھا، ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ اب کچھ نہیں کہتی۔” علیشاء نے ہنستے ہوئے صلح کی۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *