Blog
Rooh E Man By Isha Khan Novel20858
"اگر تم میری شرط مان لو تو اب بھی میرے ساتھ کام کر سکتی ہو۔" سلمان کی غلیظ پیشکش سنتے ہی سوہا کا صبر ٹوٹ گیا۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سامنے رکھا جوس کا گلاس اس کے چہرے پر دے مارا، اور جب وہ اس کی طرف بڑھا تو کانچ کا گلدان پوری قوت سے اس کے سر پر دے مارا۔ اس ایک وار نے ثابت کر دیا کہ سوہااپنی عزت اور خودداری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
Jab Dil Miley By Guray Nayyab & Perishah Malik Novel20857
"مصطفیٰ نے گن اپنے ہی سر پر رکھ لی اور زونی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، 'میں آخری بار پوچھ رہا ہوں... ہاں یا ناں؟' ٹریگر پر اس کی انگلی دیکھ کر زونی کی سانسیں رک گئیں۔ نم آنکھوں سے وہ چیخ اٹھی، 'ہاں... کروں گی نکاح!' یہ سن کر سب نے سکون کا سانس لیا، مگر زونی کا لرزتا وجود اس لمحے کے خوف کی گواہی دے رہا تھا۔"
Ek Thi Heer Novel By Aiman Akmal Novel20856
وہ پہلی لڑکی تھی جو گئی تو جاب انٹرویو کے لیے تھی مگر کمپنی کے مالک کو ہی بیٹھی دھمکا رہی تھی کہ اگر اس نے اسے جاب پر نا رکھا تو اسکے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔
Poojan By Aanakham Novel20855
"جس ہاتھ کو تھامنے کی خواہش برسوں سے دل میں بسی تھی، آج وہی ہاتھ اسے کسی اور کے ہاتھ میں دینا پڑا۔ آنکھوں میں محبت، دل میں درد اور لبوں پر صرف ایک وعدہ تھا... 'ہمیشہ میری دوست کو خوش رکھنا۔' اس لمحے اس نے ثابت کر دیا کہ سچی محبت کبھی کبھی اپنے محبوب کو پانے میں نہیں، بلکہ اس کی خوشی کے لیے خود کو قربان کر دینے میں ہوتی ہے۔"
Hareer E Hayat By Aanakham Novel20854
"آپ وہ تلاش ہیں جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی تھی، مگر جب آپ میری زندگی میں آئیں تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے بس آپ ہی چاہیے تھیں۔"
"ان ری ایکشنز کا تو زیادہ نہیں پتا، لیکن آپ کو دیکھتے وقت میرے چہرے پر جو ری ایکشن آتا ہے، وہ یہ ناچیز ضرور بتا سکتا ہے۔"
ذادن کی یہ بات سن کر وہ شرما کر نظریں جھکا گئی، جبکہ دونوں کی خاموش مسکراہٹ نے اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
Dastan E ishq By Parisha Malik Novel20853
"ڈائری کے پہلے صفحے پر اپنی تصویر دیکھتے ہی سجیلہ کے ہوش اُڑ گئے۔ ہر لفظ وابصہ کی برسوں پرانی، خاموش اور پاکیزہ محبت کی گواہی دے رہا تھا۔ 'میری چاہت تیرے نام، میری وفا تیرے نام... بس تو ایک بار کہہ دے، تیری محبت میرے نام۔' یہ الفاظ پڑھ کر سجیلہ ٹوٹ کر رو پڑی اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وابصہ کی محبت کتنی سچی اور بے لوث تھی۔"
Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852
بچپن میں ہوا ایک نکاح، جسے صنوبر نے ہمیشہ اپنا مقدر سمجھا، مگر مجید نے صرف ایک بوجھ۔ برسوں بعد جب والد نے اسے اس رشتے کی یاد دلائی تو اس نے بے رحمی سے طلاق کے کاغذات بھیجنے کی بات کر دی۔ مگر ایک بوڑھے باپ کی صرف ایک خواہش تھی... "طلاق مت دینا۔" صنوبر کو اس فیصلے کا علم بھی نہ تھا، لیکن اس کی پوری زندگی ایک ایسے وعدے کے سہارے کھڑی تھی جسے نبھانے یا توڑنے کا اختیار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔
Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel By Nahid Chaudhary novel20851
سب کے سامنے ہونے والی وہ چند تلخ باتیں البینہ کی پوری دنیا بدلنے کے لیے کافی تھیں۔ شہزیب نے غصے میں اسے "دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والی حقیر لڑکی" کہا تو یہ الفاظ اس کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔ زخمی دل کے ساتھ جب وہ نانو کے پاس پہنچی تو اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ معلوم ہوا۔ وہ جن لوگوں کو اپنا سب کچھ سمجھتی تھی، ان سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ ایک ہی دن میں اس کی محبتیں، اس کی پہچان اور اس کی پوری دنیا سوال بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، اور اب اسے صرف ایک جواب چاہیے تھا... آخر وہ حقیقت میں ہے کون؟
Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850
جب خولہ کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کا علم ہوا تو اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ مگر اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب اسفندیار نے نہ صرف اسے طلاق کی دھمکی دی بلکہ اس کے دونوں معصوم بیٹوں کو بھی اس سے چھین لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک بے بس ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چیختی رہی، مگر اس کے شوہر کے دل میں ذرا سی نرمی نہ آئی۔ گھر کی دہلیز پر ماں کی ممتا، شوہر کی بے وفائی اور ایک عورت کی عزت ایک ساتھ روندی جا رہی تھی، جبکہ بارش میں بھیگتا صحن اس دردناک منظر کا خاموش گواہ بنا کھڑا تھا۔
Khulain Naseeb Mere by Maha Malik Novel20849
وہ خاموشی سے اس کے ہر تلخ لفظ کو سہہ لیتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ قصور اس کا اپنا ہے۔ آخر وہ ایک سانولی، سادہ اور ان پڑھ گاؤں کی لڑکی تھی، جبکہ حیدر ہر لحاظ سے خوبصورت، تعلیم یافتہ اور باوقار انسان تھا۔ وہ سوچتی تھی شاید اس کے نصیب میں محبت لکھی ہی نہیں گئی۔ اگر اس کی موجودگی ہی حیدر کی اداسی اور بے چینی کی وجہ ہے تو پھر وہ خود ہی اس کی زندگی سے دور ہو جائے گی۔ محبت تو قربانی کا نام ہے، اور وہ اپنی محبت کی خاطر خاموشی سے واپس اسی گاؤں لوٹ جانے کا فیصلہ کر لیتی ہے جہاں سے کبھی دل میں ہزاروں خواب سجا کر آئی تھی۔ مگر کیا واقعی اس کی جدائی ہی دونوں کی تقدیر بنے گی، یا قسمت ابھی ایک نیا موڑ سنبھالے بیٹھی ہے؟