Blog
Esaret-i Ask Novel20848
شادی کی پہلی رات ہی ماہ زیب کو معلوم ہو گیا کہ اس کا شوہر کرار جعفر اس رشتے کو کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا۔ اس نے بے رحمی سے اعلان کیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور جلد دوسری شادی کرے گا۔ پھر اس نے ماہ زیب کو بستر سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور اس کی خاموشی پر اسے زبردستی گھسیٹ کر فرش پر پھینک دیا۔ اس رات ماہ زیب نے اپنے تمام خواب ٹوٹتے دیکھے، اپنے رب کے حضور سجدے میں آنسو بہائے اور صبر کی دعا مانگتی رہی، مگر آنے والے دن اس کے لیے اس سے بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوئے۔
Adal Aur Jaza Complete by Nayab Jeelani Novel20847
عدل بچپن کے ایک بھولے بسرے نکاح کو محض ماضی کی بات سمجھ کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا، مگر جزا آج بھی اسی رشتے کو اپنی قسمت مان کر ہر ظلم سہہ رہی تھی۔ نانی کے انتقال کے بعد مامی کے مظالم اس کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں اور آخرکار وہ ایک رات سب کچھ چھوڑ کر عدل کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ وہ گھر جہاں عدل اب اپنی دوسری بیوی کے ساتھ نئی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ ایک ہی چھت تلے ماضی، حال، محبت، فرض اور انصاف آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، اور یہی لمحہ اس کہانی کو ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جہاں ہر فیصلہ کسی نہ کسی کی زندگی بدل دیتا ہے۔
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔
Hum Haar Gaye By Fozia Akbar Sana Novel20845
شادی کی پہلی رات درِ نجف نے سوچا تھا کہ شاید اب اس کی مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر شہیم احمد نے اسے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ دیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ شادی صرف اس کی جان بچانے کے لیے کی گئی ہے، وہ اسے کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے وہ اس سے علیحدہ ہو جائے گا۔ درِ نجف خاموشی سے اس کی ہر تلخ بات سنتی رہی، مگر جب شہیم نے نفرت کی انتہا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جوتوں کی سیاہ پالش مل دی تو اس کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہو گئی۔ وہ پہلی بار ٹوٹنے کے بجائے اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور احتجاج کیا، مگر جواب میں اسے بے رحمانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی لمحہ اس کہانی کا سب سے دردناک موڑ بن جاتا ہے، جہاں ایک بے گناہ لڑکی کی آزمائش اور ایک سخت دل مرد کی نفرت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔
Teri Ulfat Me Sanam by Rubina Nadeem Novel20844
رخصتی سے چند لمحے پہلے نمی وصی احمر کے کمرے میں صرف ایک سوال لے کر جاتی ہے، مگر بات سوال سے بڑھ کر انا، غرور اور دل توڑ دینے والے الفاظ تک جا پہنچتی ہے۔ وصی کے جرمنی چلے جانے اور شادی سے فرار کی حقیقت جان کر نمی اسے صاف کہہ دیتی ہے کہ اگر آج اس سے دوبارہ پوچھا جاتا تو وہ کبھی اس سے شادی نہ کرتی۔ وہ اسے دوسری شادی کی تحریری اجازت بھی دے دیتی ہے اور واضح کر دیتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان صرف ایک رسمی رشتہ ہے۔ نمی کے یہ الفاظ وصی کے غرور پر کاری ضرب ثابت ہوتے ہیں۔ غصے میں وہ اعلان کر دیتا ہے کہ شادی کے بعد وہ خود اسے طلاق دے گا۔ دونوں ایک دوسرے کو ٹھکرا کر الگ ہونا چاہتے ہیں، مگر قسمت ان کے لیے ایک بالکل مختلف کہانی لکھ چکی ہوتی ہے۔
Bas Ik Dagh e Nidamat By Umera Ahmed Novel20843
مومل کے لیے سب کچھ اس وقت بدل گیا جب اسفند حسن نے انتہائی سکون سے بتایا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس نے مومل کو اختیار دیا کہ اگر وہ اجازت نہ دے تو وہ طلاق لے سکتی ہے، یہاں تک کہ گھر، حق مہر اور مالی تحفظ کا بھی بندوبست کر دیا۔ مگر مومل کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ دس سال کا رشتہ چند لفظوں میں ختم کیا جا رہا تھا۔ جب اس نے غصے میں فوراً طلاق کا مطالبہ کیا تو اسفند نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے بیٹی کی شادی ہو جائے، پھر وہ اسے طلاق دے دے گا۔ یہی لمحہ دونوں کی ازدواجی زندگی کا سب سے تلخ موڑ بن جاتا ہے، جہاں محبت سے زیادہ انا، خاموشی اور پچھتاوا بولنے لگتے ہیں۔
Mohabbat Hogai Aakhir By Yumna Talha Novel20842
"شیشے میں اچانک کسی اجنبی شخص کا عکس دیکھ کر لائبہ کے ہاتھ سے تولیہ گر گیا۔ وہ گھبرا کر پیچھے مڑی مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ پھر ایک مدھم سرگوشی اس کے کانوں میں گونجی، 'تم شادی کے بعد بال کھلے رکھنا... زیادہ خوبصورت لگتی ہو۔' لائبہ خوف، حیرت اور الجھن کے ملے جلے احساسات میں گم ہو کر بس شیشے کو دیکھتی رہ گئی۔
Sukhan Shanas By Humaira Ali Novel20841
"وقت تو گزر جاتا ہے، مگر ہر زخم وقت کے ساتھ نہیں بھرتا۔ ماں کی جدائی، باپ کی موت اور اپنوں کی بے حسی نے اس معصوم بچی کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اب وہ اسی گھر میں رہتے ہوئے بھی ہر لمحہ خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی، جہاں کبھی محبت اور خوشیوں کا راج تھا۔"
Dastoor e Wafa by Maryam Aziz Novel20840
"بدگمانی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، بہو! وہ معصوم بچی سارا وقت تمہارے ڈر سے ایک کمرے میں بند رہتی ہے۔ آخر تمہیں اس سے اتنی دشمنی کس بات کی ہے؟"
"کوئی کسی کا نصیب نہیں چھین سکتا۔ اپنی اولاد کی قسمت کا الزام اس بچی پر مت لگاؤ۔"
"وہ بچی میری ذمہ داری ہے، میں اس کا سرپرست ہوں۔ جس دن اس کے اپنے لوگ مل جائیں گے، وہ خود چلی جائے گی۔"
Girls Power by Muskan Noor Novel20839
"فضا بیگم کے زمین پر گرتے ہی وردہ نے غصے میں اسد کے منہ پر زور دار تھپڑ مار دیا۔ جب اسد نے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تو وردہ نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑ کر خبردار کیا، 'غلطی سے بھی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش مت کرنا، ورنہ یہ غلطی تمہیں بہت مہنگی پڑے گی۔' اسی لمحے سب کو احساس ہوا کہ وردہ صرف اپنی نہیں، ہر مظلوم عورت کی آواز بننے والی ہے۔