Teri Chahat Ka Aseer Novelistan

Emotional Story | Urdu Novels | Romantic Motivational Story | Complete Story  

“یزدان حیدر، میں تمہارا قتل کر دوں گی! مجھے جانے دو!” چیختے ہوئے بولتی وہ ہاتھ پیر مارتے ہوئے خود کو اس سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی، جو اس کا بازو تھامے ہوئے اسے اپنے ساتھ ہی گھر کے اندر لیے داخل ہو رہا تھا۔ “خاموش۔” سنجیدگی سے کہتا ہوا وہ پلٹ کر اس کی بڑی بڑی غزالی آنکھوں میں دیکھ گیا تھا۔ ابھی فی الحال اسے قابو کرنے کے لیے سختی برتنا ضروری تھی، تبھی نظروں سے اسے وارننگ دیتا ہوا وہ اسے لیے ہوئے اندر داخل ہوا تھا۔ ایک کمرے میں داخل ہو کر اسے صوفے پر بٹھاتے ہوئے وہ اس کے سامنے ہی دو زانو ہو کر بیٹھا تھا۔ “میری بات تسلی سے بیٹھ کر سنو۔ میں نہیں جانتا کہ اذان کیوں تمہاری شادی مجھ سے کرانا چاہتا ہے، مگر میں یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ اگر وہ ایسا کچھ کر رہا ہے تو اس کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی وجہ ہوگی۔ اسی لیے ہمیں یہ نکاح کرنا ہی ہوگا۔ ہاں، اگر تم مجھے اپنے قابل نہیں سمجھتی تو وہ ایک الگ معاملہ ہے جسے ہم شادی کے بعد تسلی سے بیٹھ کر سلجھا سکتے ہیں۔ مگر ابھی کے لیے تیار رہو، کچھ ہی دیر بعد ہمارا نکاح ہوگا۔” سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر دو ٹوک لہجے میں بولتے ہوئے وہ اسے احتجاج کرنے کے تمام مواقع چھین چکا تھا، جبکہ بے یقینی سے بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ یزدان حیدر کو اپنے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا ہوا دیکھ کر وہ حیرت سے اپنا حلق تر کر گئی تھی۔ “مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔” دھیمی آواز میں بولتے ہوئے اس مرتبہ وہ اپنی نظروں کا زاویہ دوسری طرف موڑتے ہوئے گویا ہوئی تھی۔ “اور کیا تم مجھے اس شادی کے نہ ہونے کی وجہ بتا سکتی ہو؟” سنجیدگی سے بولتے ہوئے وہ اب براہِ راست اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ “اور بھلا میں آپ سے شادی کیوں کرنے لگی؟ کہ آپ مجھے اس شادی کے ہونے کی کوئی معقول وجہ بتا سکتے ہیں؟ نہیں نا۔ جس طرح آپ نہیں بتا سکتے، اسی طرح میں آپ کو اپنی ناپسندیدگی کی اور کیا وجہ بتاؤں۔ بس یہی ہے کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی اور آپ سے تو بالکل بھی نہیں کرنا چاہتی۔” سنجیدگی سے بولتے ہوئے وہ پھولے ہوئے گالوں کے ساتھ اپنے چہرے کا رخ دوسری جانب موڑ چکی تھی۔ “میرے پاس وجہ ہے اس شادی کے کرنے کی، میں بس تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس کیا وجہ ہے اس شادی کے نہ کرنے کی۔” لب دبا کر بولتا ہوا وہ اسے چھیڑنے سے باز نہیں آیا تھا۔ “کیا وجہ ہے آپ کے پاس اس شادی کو کرنے کی؟” آنکھوں کو چھوٹی کر کے اس کے چہرے کو کھوجتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر وہ گویا ہوئی تھی۔ “یہ کہ یزدان حیدر پہلی ہی نظر میں تم پر فریفتہ ہو چکا ہے۔ کیا یہ وجہ کم ہے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں؟” سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے اب کی مرتبہ وہ اپنے ہاتھ کی پشت اس کے ہاتھ پر پھیرتے ہوئے اسے سٹپٹانے پر مجبور کر گیا تھا۔ “آپ ایک ٹھرکی انسان ہیں، آپ جانتے ہیں؟ ابھی بھی آپ مجھ پر اپنی ٹھرک جھاڑنے سے باز نہیں آ رہے! کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ آپ مجھ سے کتنے بڑے ہیں؟” گھور کر بولتے ہوئے وہ اس کی پچھلی بات کا اثر ختم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ “کتنا بڑا ہوں تم سے؟ یہی کوئی پانچ سے چھ سال۔ اور دیکھنے میں میں تمہارے جتنا ہی ینگ لگتا ہوں، اس لیے شادی کے بعد ہم دونوں ایکول ہو جائیں گے۔” لب دبا کر بولتا ہوا وہ اب کی مرتبہ اپنی نگاہوں کو اس کی ناک پر جما چکا تھا، جہاں ابھی ہیرے کی لونگ موجود نہیں تھی، مگر وہ سوچ چکا تھا کہ پہلی ہی فرصت میں، اگر یہ جنگلی بلی اس پر کوئی حملہ نہ کرے تو وہ اسے وہ ناک کی لونگ دینے والا تھا، کیونکہ وہ اس پر بے حد جچتی تھی۔ “آپ، آپ۔۔۔!” ایک انگلی اٹھا کر بے بسی سے کہتی ہوئی وہ مزید کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں رہی تھی، جبکہ یزدان حیدر اپنے لب دبا کر مسکراہٹ کو قابو کرنے کے چکر میں سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ گیا تھا۔ “جانتا ہوں، جانتا ہوں کہ بہت زیادہ ہینڈسم ہوں میں، اور تم کتنی خوش قسمت ہو کہ تمہاری شادی مجھ سے ہو رہی ہے۔” لب دبا کر بولتا ہوا وہ اس کی ناک کھینچ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا، جبکہ وہ بے بسی سے اپنے لب کاٹ کر رہ گئی تھی۔ اس بے باک انسان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا۔ خفت سے پھولے ہوئے گالوں کے ساتھ اپنے چہرے کا رخ دوسری جانب موڑتے ہوئے وہ بس سوچ کر رہ گئی تھی، جبکہ کچھ ہی دیر بعد دروازے پر ہوتی دستک سے وہ دونوں اس طرف متوجہ ہوئے تھے جہاں دروازے پر ہی اذان جتوئی ٹھہرا ہوا تھا۔ “بھائی، ایک مرتبہ پھر سوچ لیں آپ۔ میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی۔” دھمکی آمیز لہجے میں بولتے ہوئے وہ اپنے بھائی پر ایک نگاہ ڈال کر دوسری نگاہ یزدان حیدر پر ڈال چکی تھی، مگر ان کا فیصلہ اٹل تھا، یہ بات ان کے چہروں سے واضح تھی۔ تبھی اذان جتوئی آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا اسے کندھے سے تھام کر باہر کی جانب لے بڑھا تھا، جہاں لاؤنچ میں صوفوں پر کچھ افراد مولوی صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اسے لا کر یزدان حیدر کے ساتھ بٹھایا گیا تھا اور کچھ ہی دیر بعد ایجاب و قبول کا مرحلہ طے پا گیا تھا، جس پر خفت سے سرخ پڑتے گالوں اور نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ وہ شکایت لیے ہوئے اپنے بھائی اور باپ کو دیکھ کر یزدان حیدر کی زوجیت میں آ چکی تھی۔ “چلیں، زوجہ صاحبہ۔” دھیمی آواز میں کہتا ہوا یزدان اس کے قریب جھک کر کان میں گویا ہوا تھا، جبکہ اب بوکھلانے کی باری تو مرجان کی تھی۔ “ہرگز بھی نہیں، میں آپ کے ساتھ کہیں بھی نہیں جانے والی!” بوکھلا کر وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور ابھی آگے بڑھنے ہی لگی تھی کہ یزدان حیدر نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ اپنے باپ اور بھائی کے سامنے کی جانے والی اس بے باکی پر وہ گردن تک سرخ پڑ گئی۔ “بھائی، ہماری بات صرف نکاح کی ہوئی تھی، رخصتی کی نہیں۔ یہ میرے ساتھ زیادتی ہے!” بے بسی سے کہتے ہوئے اس نے ایک بے بس نظر اپنے بھائی کی جانب ڈالی، مگر وہ اس کی طرف دیکھتے ہی نظریں چرا گیا۔ “تمہارا یہ شریف سا بھائی کچھ بھی نہیں بولنے والا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تم پر سب سے زیادہ حق میرا ہے۔ اور اگر میں ابھی کے ابھی تمہاری رخصتی کا مطالبہ کروں، تو تمہیں میرے ساتھ چلنا ہی ہوگا، زوجہ محترمہ۔ باقی کی ڈسکشن ہم تسلی سے کمرے میں جا کر کریں گے۔” دھیمی آواز میں کہتے ہوئے وہ اس کے کان کے قریب جھکا، جبکہ مرجان کی سانسیں حلق میں ہی خشک ہو چکی تھیں۔ یہ انسان کس قدر بے باک تھا! بے ساختہ اسے اپنی حالت پر ترس آیا، مگر اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ یزدان حیدر کے ساتھ بہت ہی برے طریقے سے پھنس چکی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بھی بولتی یزدان حیدر آگے بڑھ کر اسے کلائی سے تھامتا ہوا پورے استحقاق سے اس کے بھائی اور اس کے باپ کے سامنے اسے لیے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *