Ishqan De Likhey By Afsheen Sheikh Novel20693
Ishqan De Likhey By Afsheen Sheikh
Forced Marriage Base | Rude hero | Romantic Urdu Novel | Complete Novel
نکل جاؤ یہاں سے!” ماہیر شاہ کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنی گیارہ سالہ دلہن کو دیکھ کر طیش سے دھاڑا، چچا کی جائیداد ہتھیانے کے لیے زبر دستی اس کی شادی ایک بچی سے کر دی گئی۔”ماہیر لالا!” روبا روتی ہوئی اسکے پاس آئی تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی خود پر قابو پا کر بولا ” اپنے روم میں جاؤ گڑیا!۔۔۔” ولیمے کے اگلے دن وہ گھر والوں سے ناراض ہو کر ترکی چلا گیا۔ سات سال بعد بہن کی شادی پر آیا تو سب کی خدمت کرتی روبا کو ماسی سمجھ کر بہن پر سے نوٹ واٹ کر اسے دیتے ہوئے بولا” یہ لو بخشش! صبح سے تم نے سب کی بہت خدمت کی ہے۔ ” ماہیر لالا ! ” کالی چادر میں جھکے سر والی ماسی کے منہ سے یہ لفظ سن کر وہ پتھر ۔۔۔
حویلی کی فضاؤں میں خوشبوؤں کا بسیرہ تھا مگر یہ خوشبو گھٹن زدہ محسوس ہو رہی تھی۔ باہر صحن میں شہنائیوں کا شور تھم چکا تھا لیکن حویلی کی دیواروں سے اب بھی مبارکبادوں کی باز گشت سنائی دے رہی تھی۔ ماہیر شاہ جس کے چہرے پر غصے اور بیزاری کی گہری لکیریں تھیں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی سمت بڑھ رہا تھا۔
اس نے اپنے گلے میں پڑے پھولوں کے ہار کو جھٹک کر اتار پھینکا۔ اس کے لیے یہ شادی ایک سودا تھا ایک ایسی زنجیر جو اس کے پیروں میں جائیداد کی حفاظت کے نام پر ڈال دی گئی تھی۔۔۔ جیسے ہی اس نے کمرے کا بھاری لکڑی کا دروازہ کھولا کمرے میں موجود گلابوں اور موتیا کی خوشبو نے اس کے ناک کو چھوا۔
سامنے بیڈ پر سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس ایک ننھی سی جان بیٹھی تھی جس کا سر گھونگھٹ کے نیچے چھپا ہوا تھا۔ وہ اتنی چھوٹی تھی کے بھاری لہنگا اس کے گرد بکھرا ہوا تھا جیسے کسی گڑیا کو زبردستی دلہن بنا دیا گیا ہو۔ ماہیر کے اندر غصے کالاوا پھٹ پڑا۔ اس نے زور سے دروازہ بند کیا جس کی آواز سے وہ لڑکی لرزا ٹھی۔
ماہر شاہ دھاڑتے ہوئے بولا ” نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔ ابھی اور اسی وقت “روبا نے سہم کر اپنا سر اٹھایا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ وہ ابھی چھوٹی سی ہی تو تھی جسے “نکاح” کے معنی بھی شاید پوری طرح معلوم نہ تھے۔ وہ ماہیر کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی۔ روبا لرزتی آواز میں کہنے لگی “ماہیر ۔۔۔ ماہیر لالا؟ ” یہ لفظ “لالا “ماہیر کے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہوا۔
یہ وہی لڑکی تھی جو بچپن میں اس کے پیچھے پیچھے گھومتی تھی جسے وہ ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن زویا کی طرح سمجھتا تھا۔ اسے غصہ اس بات پر تھا کہ اس کے باپ نے اپنی جائیداد کو خاندان سے باہر جانے سے روکنے کے لیے اس معصوم بچی کو اس کے پلے باندھ دیا تھا۔ ماہیر شاہ نے اس کے قریب آکر غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا ” خبر دار جو مجھے اس نام سے پکارا تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کیا ہے؟ تم نے اور میرے گھر والوں نے مل کر میرے مستقبل کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ جائیداد کی اتنی ہوس تھی کہ ایک بچی کو قربان کر دیا؟” روبا کی سسکیاں بندھ گئیں۔
وہ بیڈ سے نیچے اتری اور ننگے پاؤں اس کے قریب آئی۔ اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ روبا ڈرتے ڈرتے بولی۔ “ماہیر لالا۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ ناراض ہوں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب آپ ہی میرا سب کچھ ہیں۔ میں نے کیا غلطی کی ہے؟” ماہیر نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا مگر جیسے ہی اس کی نظر روبا کے معصوم چہرے پر پڑی اس کی شدت میں تھوڑی کمی آئی۔ اسے اس بچی پر غصہ نہیں تھا بلکہ ان حالات پر تھا جنہوں نے اسے بے بس کر دیا تھا۔
وہ اس سے نفرت کرنا چاہتا تھا مگر اس کی معصومیت اسے ایسا کرنے نہیں دے رہی تھی۔ ماہیر شاہ سختی سے بولا ” روبا تم ایک بچی ہو۔ تمہیں ابھی گڑیاوں سے کھیلنا چاہیے تھا نہ کہ اس حویلی کی سیاست کا حصہ بننا۔ یہ شادی صرف کاغذ پر ہے۔ میرے لیے تمہاری حیثیت کبھی بھی ایک بیوی کی نہیں ہو سکتی۔۔۔” روبا خاموشی سے اسے دیکھتی رہی اسکے گالوں پر آنسووں کے نشان جم چکے تھے۔
وہ ماہیر کے جلال سے واقف تھی مگر آج کا جلال مختلف تھا۔ ماہیر شاہ کمرے کی کھڑکی کی طرف مڑتے ہوئے بولا
” جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ اپنے روم میں جاؤ گڑیا۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ میں گل صبح یہاں سے جارہا ہوں۔ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔ ” روبا حیرت اور دکھ سے کہنے لگی ” آپ کہاں جار ہے ہیں؟ کیا آپ ولیمے میں بھی نہیں ہوں گے؟” “نہیں۔۔۔ میں اس تماشے کا مزید حصہ نہیں بن سکتا۔ تم اسی حویلی میں رہو گی اپنی پڑھائی مکمل کرو گی لیکن مجھ سے کسی تعلق کی امید مت رکھنا۔ “روبانے تڑپ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔
“ماہیر لالا سب کیا کہیں گے؟ تائی امی بہت غصہ ہوں گی۔”ماہیر نے مڑ کر مڑکر اسے دیکھا۔ اس کے دل میں ایک لمحے کے لیے ٹھیس اٹھی۔ اس نے زبر دستی خود پر قابو پایا اور اپنا بازو چھڑ والیا۔ ” تم اب اس گھر کی ذمہ داری ہو میری نہیں۔۔۔ جاؤ۔۔۔اس سے پہلے کہ میرا بچا کھچا صبر بھی جواب دے جائے۔ “روبا نے اپنی چادر سر پر درست کی اپنے بھاری لہنگے کو سمیٹا اور روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
کمرے کے باہر کوریڈور میں خاموشی تھی مگر اس کے دل میں طوفان برپا تھا۔ ماہیر شاہ نے کمرے کا دروازہ لاک کیا اور بیڈ پر گر گیا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اس جاہلانہ روایت کا حصہ نہیں بنے گا۔ اس نے ترکی جانے کا ارادہ پختہ کر لیا تھا۔ اسے علم نہیں تھا کہ اس کے اس فیصلے سے اس معصوم “گڑیا ” کی زندگی میں کیا اثر ہونے ہونے والا ہے؟؟ ماہیر نے الماری سے اپنا سوٹ کیس نکالا اور پیکینگ شروع کردی۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی ” بھاگ جانا اس قید سے اس زبر دستی کے رشتے سے۔ ” اور دوسری طرف حویلی کے ایک اندھیرے کونے میں ایک ننھی دلہن اپنی قسمت پر رور ہی تھی جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس کی قسمت میں صرف تنہائی لکھی جاچکی ہے۔۔۔۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕