Meri Ashiqi By Muqadas Hani Novel20715
Meri Ashiqi By Muqadas Hani
Contract Marriage | Rude Hero | Romantic and Urdu Novel | Complete novel
” تمہارا فیگر دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ تم شادی شدہ ہو اور میرے بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہو؟؟؟ تمہارا نسوانی حسن تو پندرہ سال کی بچی جیسا ہے۔۔۔ “عنایہ نے فورا سینے پر چادر درست کی تھی مگر عالم شاہ بولا ” مجھے ثبوت دو تم کیسے میرے بچے کی بھوک مٹاتی ہو آخر کو پندرہ لاکھ دیے ہیں تمہیں دودھ پلائی کے۔۔۔” عالم سکندر نے عنایہ کے سینے کی جانب گہری نظر ڈال کر کہا تو عنایہ کے آنسو نکل آئے وہ گھبرا کر وہاں سے بھاگنے لگی کہ تبھی عالم شاہ نے عنایہ کو پکڑ لیا اور چادر کھینچ ڈالی عنایہ چلائی تھی کے ہاتھ مت لگائیں مگر عالم غصے سے چیخا خود سب سچ بتائو دھوکا دیا ہے نہ؟؟؟؟ ”
” جی تو مس عنایہ آپ جانتی ہیں کہ میں آپ کو یہ نوکری کیوں دے رہا ہوں؟؟ اور آپ کو کیا کرنا ہے؟؟ ” عالم سکندر نے ماتھے پر بل ڈالے کہا تھا۔۔۔ ” جی۔۔۔۔جی سر۔۔۔۔میں۔۔۔۔ میں جانتی ہوں ” عنایہ گھبرائی تھی۔ پینتیس سالہ شخص چیل کی نظر رکھتا تھا۔ ایک زیرک نظر اس نے عنایہ پر ڈالی اور پھر کہنے لگا۔۔۔ ” میرے بیٹے کو ماں کے فیڈ کی ضرورت ہے اور اس کے لیے میں آپ کو لاکھوں روپے دینے کو تیار ہوں۔” عالم سکندر کی آر پار ہوتی نظریں عنایہ پر تھیں۔ ایسی چھبتی نظریں کہ وہ گھبرا رہی تھی بار بار اپنا دوپٹہ ٹھیک سے لے رہی تھی کیونکہ بار بار عالم سکندر کی نظریں عنابہ کی زینت پہ جا کے ٹک جاتیں۔۔۔
” جج ۔۔ جی سر میں جانتی ہوں۔” یہ کہتے ہوئے وہ اپنی ریوالونگ چیئرز سے کھڑا ہو گیا۔ لڑکی بے حد خوبصورت تھی موٹی موٹی غلافی آنکھوں والی اس پر بے حد نروس۔ وہ عنایہ کے پاس آکر کہنے لگا۔ ” تو آپ شادی شدہ ہیں؟ آپ کا بیٹا پیدا ہوتے ہی مر گیا تھا اور شوہر بیٹے کی پیدائش سے پہلے حادثے میں مر چکا تھا؟ ایم آئی رائٹ مس عنایہ؟؟؟ ” عالم سکندر نے پھر سے تصدیق چاہی۔۔۔۔
” جی۔۔۔۔ج۔۔۔۔۔ س۔۔۔۔۔سر میں آپ کو پہلے بھی بتا چکی ہوں۔۔۔” عنایہ نا چاہ کر بھی اس شخص کی نظروں سے نروس ہو رہی تھی جو اسے سر سے پیر تک یوں دیکھ رہا تھا جیسے پتہ نہیں اس کے وجود میں کیا تلاش کر رہا ہو۔
” آر یو شیور مس عنایہ؟۔۔۔” عالم نے پھر سے پوچھا عنایہ اس کے سوالوں سے پریشان ہوئی تھی۔ اس کا یوں تفتیشی انداز اسے اندر تک دہلا کے رکھ گیا تھا۔ ” سر آپ بار بار یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں۔” عنایہ اسکی چھبتی نظروں اس کے سوالات سے زچ ہوئی تھی۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
” نہیں مس عنایہ بس یونہی کیونکہ آپ کو دیکھ کر ایسا لگتا نہیں کہ آپ میرڈ ہیں؟؟؟ ” یہ سن کر عنایہ کی رنگت اڑی تھی۔ ” ن۔۔۔۔۔ نو سر۔۔۔۔۔” وہ بری طرح گھبرائی تھی۔اس کی بد حواسی دیکھ کر عالم سکندر کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔ کہنے لگا ” مس عنایہ اتنا نروس کیوں ہو رہی ہیں؟؟؟ میں نے آپ سے کوئی ثبوت تو نہیں مانگا میں تو آپ کی بات پر اعتبار ہی کر رہا ہوں۔۔۔ اب تک۔۔۔” عنایہ کہنے لگی۔
” آپ بار بار ایک ہی سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟” وہ کہنے لگا ” بس ایسے ہی تجربے کی بنیاد پہ بات کر رہا ہوں خیر میری طرف سے آپ کی یہ نوکری پکی ہے اور اپنی بات کی وجہ بھی آپ کو بعد میں بتاؤں گا کہ میں نے یہ سوال آپ سے کیوں کیا اب تو آپ سے روز ہی ملاقات ہوگی۔ آپ کو یہ تو معلوم ہے نا کہ آپ کو میرے گھر رہنا پڑے گا۔؟؟؟” عالم دوبارہ سے اپنی ریوالونگ چیئر پر بیٹھ گیا۔
“جی سر۔۔۔” عنایہ نے جواب دیا۔ سامنے رکھی چیک بک عالم نے اٹھائی اور ایک چیک پر کچھ رقم لکھ کر سائن
کیا پھر ایک ایگریمنٹ پیپر عنایہ کے سامنے رکھا۔ ” اسے پڑھ لیں مس عنایہ اور یہ پندرہ لاکھ کا چیک۔۔۔ اب آپ ایک سال کے لیے باونڈ ہیں۔ آپ میرے بیٹے کے ساتھ ہی رہیں گئیں۔ مجھ سے پوچھے بغیر آپ کہیں جا نہیں سکتی، کسی سے مل نہیں سکتی۔۔۔” عنایہ نے ایک سرسری سی نظر ایگریمنٹ پر ڈالی پھر سائن کر دیا اور پندرہ لاکھ کا چیک لے کر سیدھا ہاسپٹل پہنچی تھی جہاں اس کا چھوٹا بھائی ایڈمٹ تھا۔ وہ کینسر کا مریض تھا اس لیے ہاسپٹل میں اسے ایڈمٹ کروایا تھا مگر علاج کے پیسے نا تھے۔ چھ ماہ کے پیسے عنایہ اب جمع کروا چکی تھی۔۔
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕