Azar E Ishq By Habiba Novel20714
Azar E Ishq By Habiba
Forced Marriage | Rude Hero | Romantic and Urdu Novel | Complete novel
“میں ٹپ نہیں لیتی سر!” پریشانی سے کہہ کر وہ جلدی سے چلی گئی۔ کل ہی تو وہ اس ہوٹل میں ویٹریس کی جاب پر آئی تھی۔ آج اس نے رضا حیدر کو ڈنر سرو کیا تو وہ ہزاروں کی ٹپ دینے لگا، لیکن آنیزے نے لینے سے صاف انکار کر دیا۔ رضا حیدر ایم این اے تھا، جس کے لیے عورت محض دل بہلانے کا سامان تھی۔ دوپٹے کے ہالے میں لپٹی معصوم سی آنیزے کو اس نے بیس ہزار کی ٹپ دینی چاہی، اس نے فوراً منع کر دیا۔ “آہ! یہ لڑکیوں کے نمبر بڑھانے کے طریقے، اب میرے سامنے ستی ساوتری بنے گی۔” عورت کے لیے اس کے خیالات اتنے ہی گھٹیا تھے۔ “سنو! مینجر میرے لیے روم بک کرو اور اس لڑکی کو وہاں بھیج دینا۔” رضا حیدر نے نوٹوں کی گڈی مینجر کو دیتے ہوئے حکم دیا۔ رضا حیدر روم میں آنیزے کا ویٹ کر رہا تھا۔ جیسے ہی مینیجر بے ہوش آنیزے کو روم میں لے کر آیا، اسی وقت میڈیا والے بھی وہاں آن پہنچے تھے۔ ان کو جیسے پہلے ہی خبر تھی۔ رضا حیدر ویسے بھی اس طرح کی سرگرمیوں میں اکثر ملوث پایا جاتا تھا اور اس کے حریف نے میڈیا والوں کو خبر پہنچا دی تھی، مگر رضا حیدر ابھی تک میڈیا کی آمد سے بے خبر تھا۔ مینجر آنیزے کو صوفے پر لٹا کر جا چکا تھا۔ رضا حیدر سیگریٹ کا کش لیتا اس کے برابر صوفے پر آن بیٹھا تھا۔ آنیزے ہوش میں آ رہی تھی۔ اس نے ویٹرس والے لباس کے اوپر حجاب پہنا ہوا تھا اور زندگی میں پہلی بار شاید رضا حیدر نے کوئی لڑکی حجاب میں دیکھی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اس کے دل میں آنیزے کے لیے ایک الگ سی کیفیت جاگی تھی، مگر پھر وہ سر جھٹکتا اپنے ہر خیال کو رد کر چکا تھا، کیونکہ سبھی لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ وہ وحشت سے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اٹھ کر ونڈو میں آ گیا تھا۔ آنیزے ہوش میں آ چکی تھی اور خود کو عجیب سی جگہ پر دیکھ کر وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔ “میں کہاں ہوں؟” “تم میرے پاس ہو، میری جان! کیونکہ تمہیں تمہاری منہ مانگی قیمت ملے گی۔ اس کے بدلے میں بس آج کی رات میرے ساتھ گزارنی ہوگی۔” وہ اس کے قریب آ رہا تھا اور آنیزے کی رنگت زرد پڑ گئی تھی۔ اس کی ٹانگوں سے جیسے جان نکل گئی تھی۔ “پلیز! میں ایسی نہیں ہوں، مجھے… مجھے جانے دیں، میری ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، مجھے گھر جانا تھا۔” وہ ہکلاتے ہوئے بمشکل بول پائی تھی۔ “یہ سب بہانے ہوتے ہیں تم لڑکیوں کے، صرف اپنے دام بڑھانے چاہ رہی ہو۔ مجھے فرق نہیں پڑتا۔ بولو، تمہاری کیا قیمت ہے؟ مگر میرے سامنے تمہارے یہ نخرے نہیں چلیں گے۔” وہ اس کے قریب آتے ہوئے اس کا حجاب کھینچنے لگا تھا، جب وہ دور ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں آنیزے کے گلے میں پہنا ہوا اس کے ہوٹل کا آئی ڈی کارڈ آ گیا تھا۔ “آنیزے سلطان ولد سلطان گوندل۔” اس نے اونچی آواز میں اس کا نام پڑھا تھا۔ رضا حیدر نے بہت غور سے آنیزے کی طرف دیکھا تھا۔ “کون ہو تم؟” “میں… میں ویٹرس ہوں۔ یہاں مجھے پیسوں کی ضرورت تھی، میری ماما بیمار ہے اور میں جاب کے لیے آئی تھی۔ ابھی میری ڈگری بھی مکمل نہیں ہوئی، ورنہ میں کہیں اور جاب کر لیتی۔” کپکپاتے لبوں سے وہ بمشکل ہچکیاں لیتے بول پائی تھی۔ “اور تمہاری ماں… کا کیا نام ہے؟” “ثروت زاہرہ۔” اور آنیزے کا اپنی ماں کا نام لینا اور ادھر رضا حیدر کے تیور بدلے تھے۔ اس کی رگیں تن گئی تھیں اور ایک دم ہی غصہ عود کر آیا تھا۔ اس نے ہاتھ میں وہ پکڑا کارڈ اچھی طرح سے مسل دیا تھا، جیسے وہ اپنے کسی حریف کی گردن دبا رہا ہو۔ “تو تم سلطان گوندل کی بیٹی ہو؟” “ہاں، مگر میرے بابا کی تو بہت سال پہلے ہی ڈیتھ ہو گئی تھی۔” تب ہی رضا حیدر کا فون بجا تھا۔ اس کا سیکرٹری فون کر رہا تھا۔ “سر! باہر میڈیا والے آئے ہیں، ان کو کسی نے بتا دیا ہے۔ آپ کو ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکلنا ہوگا۔ ہم لوگ میڈیا والوں کو ادھر گھیر کر کھڑے ہیں۔ آپ پچھلے ہوٹل کے دروازے سے نکلیں، مینجر آ رہا ہے، وہ آپ کو گاڑی تک چھوڑ آئے گا۔” وہ باہر نکلا تھا۔ آنیزے ابھی تک وہیں تھی۔ میڈیا والے کسی بھی وقت وہاں پہنچ سکتے تھے۔ رضا حیدر، جو خود کو بچا کر وہاں سے بھاگ رہا تھا، اچانک ہی کسی خیال کے تحت وہ رکا تھا اور اس کمرے کی طرف آیا تھا۔ “سر! آپ کمرے کی طرف مت جائیے، وہ لوگ کبھی بھی آ سکتے ہیں۔” “بکواس بند کرو اپنی۔” مینیجر کو اس نے ڈپٹا تھا اور کمرے میں آیا تھا۔ آنیزے کا ہاتھ پکڑتا وہ اسے کھینچتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ آنیزے سارے راستے روتے ہوئے آئی تھی۔ “چپ کر جاؤ، مجھے تمہاری آواز نہ آئے اب۔” “پلیز! مجھے… مجھے گھر جانے دیں، میری ماما بہت پریشان ہوں گی میرے لیے۔ وہ روتی رہی گئی مگر
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕