Muskurai hai zindagi novel by Atiqa Malik Novel20881

Forced Marriage | Marriage Issues | Family Drama | Emotional Romance | Misunderstanding Based

Short Description

مسکرائی ہے زندگی عتیقہ ملک کا ایک جذباتی اردو ناول ہے جو فروا اور عباس ملک کی تلخ ازدواجی زندگی، غلط فہمیوں، نفرت، خاموش قربانی اور محبت کے دوبارہ جنم لینے کی امید پر مبنی ایک دل چھو لینے والی داستان ہے۔

Muskurai Hai Zindagi Novel by Atiqa Malik Complete Urdu Novel

نفرت، خاموش قربانی اور محبت کے دوبارہ جنم لینے کی دل چھو لینے والی داستان۔

جب اس کے شوہر اور پر رونق حویلی میں سناٹے بھری جامد زندگی گزارتے اسے چار سال بیت چلے تھے اور ان چار سالوں میں عباس ملک نے اسے کیا دیا تھا؟ بہت کچھ۔۔ تہیہ شدہ نفرت اور حقارت سے نوازا تھا۔ لا تعلقی کی مار کے کوڑے جو اس کی تمام روح پر برسائے تھے۔ یہ نہیں تھا کہ فروا نے اس کی طرف پیش رفت نہیں کی تھی۔ کتنی دفعہ اس سے معافی مانگنے اور اسے حقیقت بتانے کی کوشش کی مگر عباس ملک کے دل پر نفرت کی جو گرد جمی تھی، وہ اسے صاف کرنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ اسے حویلی میں آئے ایک سال ہونے کو تھا۔ یہ تب کی بات تھی کہ اسے شیفون کے کپڑوں میں پھرتے دیکھ کر سائرہ چچی نے ٹوکا تھا۔
“فروا! عباس سے کہو، تمہیں شاپنگ کرائے، کچھ سویٹر اور شالیں دلا دے۔”
جو آپ کو ڈھیروں، حقارت اور نفرت سے نواز رہا ہو، آپ اس سے کیا مانگیں؟ مگر یہاں اس کی مجبوری تھی۔ حویلی کی عورتوں کو نت نئی شاپنگ، بننے سنورنے، میچنگ اور مقابلے کا جنون تھا۔ ایسے میں وہ کسی کی تنقیدی نگاہوں میں نہیں آنا چاہتی تھی۔
دو تین دن سوچنے کے بعد اس نے عباس سے بات کرنے کی ٹھانی تھی۔
“میرے پاس سردیوں کے کپڑے نہیں ہیں۔ آپ۔۔ آپ دلا دیں گے؟” وہ خاموش رہا تھا۔ اگلے کئی دن گزر جانے کے بعد بھی جب اسے اپنی بات کا کوئی جواب نہ ملا تو اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا تھا۔ “میرے پاس سردیوں کے کپڑے نہیں ہیں۔۔۔ اگر میں سوہنی کو بھیج کر چین بیچ دوں؟”
“آپ ایسی حرکتیں یہاں بھی کر کے مجھے بدنام کریں گی۔” اس نے والٹ سے کافی سارے نوٹ نکالے مگر اس کے ہاتھ میں دینے کے بجائے کمبل پر پھینک دیے تھے، گویا وہ اسے موسم کے سرد و گرم سے بچنے کے لیے چند جوڑے کپڑے کے بھی لانے کا روادار نہیں تھا، مگر یہ بھیک! اس نے کمبل پر پھینکے جانے والے نوٹوں پر نظر ڈالی اور سمیٹ لیے۔ اور پھر اسے عباس کی طرف سے جو بھی ملا وہ اس نے اسی طرح سمیٹا تھا۔ چاہے نفرت اور دکھ ہی سہی۔
بی بی جان اس کی اولاد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتیں اور انہوں نے اسے عباس کے ساتھ شہر بھیج دیا تاکہ وہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروائے۔ دو تین دن اس کے شہر والے گھر میں رہ کر تیسرے دن لوٹ آئی تھی۔ اس نے پھر ہمت کی تھی۔ خود کو سنوارنے پر توجہ دی تھی۔ مگر اس کا نتیجہ بھی صفر نکلا تھا۔ سیاہ کڑھائی والے سوٹ میں عباس کو جوس دینے کمرے میں آئی تھی اور گلاس ٹیبل پر رکھنے کے بجائے اس کی طرف بڑھایا تھا۔
“اس کی ضرورت نہیں!” عباس نے ایک ناگوار نظر ڈالی اور پھر دیکھتا ہی چلا گیا۔ وہ گلاس اس کے پاس رکھ کر باہر نہیں گئی، یوں ہی کمرے میں چھوٹے موٹے کام نمٹانے لگی۔ ادھر ادھر پھرتی فروا کے ملبوس سے اٹھتی مسحور کن خوشبو اس کے حواسوں پر چھانے لگی تو وہ اٹھ کر اس کے پاس آ گیا اور ایک طنز بھری نظر اس پر ڈالی تھی۔
“سنو! کس خوشی میں اتنی تیار ہوئی ہو؟ میرا نفس اتنا لجام نہیں کہ یوں تمہارے بہکاوے میں آ جائے۔” اس کی انگلیاں فروا کے بازوؤں پر گڑ گئیں۔ “سمجھتی ہو ان بازاری حرکتوں سے تم مجھے اپنی طرف متوجہ کر لو گی؟” فروا کے دل میں جیسے اس نے کوئی نیزہ اتار دیا تھا۔
“مجھے یوں مت کہیں عباس!” اس نے جیسے التجا کی تھی، آنسو بے ساختہ بہہ نکلے۔ اس کی سفید رنگت میں جذبات کی شدت سے گلابیاں گھل گئی تھیں اور جب دوپٹہ سر سے اتر کر کاندھے پر ڈھلکا تو اس کے ریشمی چمکدار بالوں نے گویا اس کے حسن کو دو آتشہ کر ڈالا تھا۔ یہ عباس ملک تھا جس نے فروا کی قسمت میں اپنے ہاتھوں سے ناروا سزائیں لکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس عورت کی قسمت میں، جس کے ماضی پر کسی اور مرد کا سایہ تھا، یوں فروا کے دل کی سرزمین سے امید اور گمان کے سارے پودے ایک ایک کر کے اڑتے چلے گئے تھے۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ اسے صبر آ گیا ہو۔ اس نے کئی راتیں روتے ہوئے گزاری تھیں۔ اور دنوں بے کل پھرتی تھی۔ مگر کوئی اس کا اپنا نہ تھا جس سے وہ اپنا دکھ، اپنی پریشانیاں شیئر کرتی۔
کبھی اسے اپنا آپ یوں لگتا جیسے قسمت نے سب کچھ عطا کر کے بھی محروم رکھا ہے۔ یہ کیا کم تھا کہ اس کی عزت محفوظ رہے۔ وہ عباس ملک کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی۔ مگر یہ احساس کہ وہ عباس ملک پر مسلط کردہ ایک ناگوار بوجھ کی طرح ہے، یہ اذیت اسے اس طرح جلاتی کہ دم گھٹنے لگتا تھا۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Complete Summary

مسکرائی ہے زندگی ایک ایسی درد بھری رومانوی کہانی ہے جس میں محبت سے زیادہ غلط فہمیاں، خاموش اذیتیں اور قسمت کے بے رحم فیصلے نمایاں ہیں۔ کہانی کا مرکز فروا اور عباس ملک ہیں، جن کا نکاح تو ہو جاتا ہے مگر دل کبھی ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے۔

عباس ملک ماضی کی ایک غلط فہمی کی بنیاد پر فروا سے شدید نفرت کرتا ہے۔ وہ اسے کبھی اپنی بیوی کا مقام نہیں دیتا بلکہ ہر لمحہ حقارت، بے رخی اور تلخ رویے سے اس کی خودداری کو زخمی کرتا رہتا ہے۔ دوسری طرف فروا ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ وہ حقیقت بیان کرے اور اپنے شوہر کا اعتماد حاصل کرے، مگر عباس کے دل پر جمی نفرت کی گرد کسی بھی وضاحت کو قبول نہیں کرتی۔

حویلی کی بڑی بہو ہونے کے باوجود فروا تنہائی، خاموشی اور محرومی کی زندگی گزارتی ہے۔ وہ شوہر کی محبت نہیں مانگتی بلکہ صرف اتنی خواہش رکھتی ہے کہ اسے عزت اور اپنائیت مل جائے۔ ہر نئی کوشش کے بدلے اسے مزید بے اعتنائی، الزام اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ صبر اور وقار کا دامن نہیں چھوڑتی۔

وقت کے ساتھ زندگی نئے امتحانات، خاندانی دباؤ، اولاد کی خواہش، رشتوں کی کشمکش اور دلوں میں چھپی سچائیوں کو سامنے لے آتی ہے۔ کیا عباس ملک اپنی غلط فہمیوں سے نکل کر فروا کی بے گناہی کو سمجھ پائے گا؟ کیا نفرت کی جگہ محبت لے سکے گی؟ یہی سوال اس ناول کو ابتدا سے اختتام تک دلچسپ بنائے رکھتے ہیں۔

Muskurai Hai Zindagi by Atiqa Malik, Atiqa Malik Novel, Complete Urdu Novel, Emotional Urdu Novel, Forced Marriage Novel, Family Drama, Pakistani Urdu Novel 

FAQs

Muskurai Hai Zindagi kis qisam ka novel hai?

Yeh aik emotional romantic Urdu novel hai jismein family drama, marriage issues aur misunderstandings ko markazi ahmiyat di gayi hai.

Muskurai Hai Zindagi ki writer kaun hain?

Is novel ki writer Atiqa Malik hain.

Kya Muskurai Hai Zindagi complete novel hai?

Ji haan, yeh complete Urdu novel hai aur Novelistan par online dastiyab hai.

Is novel ki kahani kis bare mein hai?

Yeh kahani Farwa aur Abbas Malik ki shadi, ghalat fehmiyon, nafrat, khamosh mohabbat aur rishton ki dobara tameer ke gird ghoomti hai.

Muskurai Hai Zindagi online kahan parh sakte hain?

Aap Novelistan par Muskurai Hai Zindagi complete Urdu novel online parh sakte hain.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *