Blog
Kuch Muhabatein Anjan Si By Umaima Mukarram Novel20984
ڈکیت۔"
"لیکن مجھے تو جان چاہیے۔"
"ہاں وہ بھی میرے شوہر کی لے لینا، وہ ابھی آتے ہوں گے۔"
"وہ مجھ سے زیادہ کمینے ہیں۔"
"نہیں مجھے تو کمینی عورتوں کی جان چاہیے۔"
"مر گئی کیا؟"
"نہیں، ایسی بلاؤں سے اتنی جلدی جان نہیں چھوٹتی۔"
Terhween By Shireen Haidar Novel20983 – Heart Touching Family Urdu Novel
وہ دنیا میں آئی تو کسی نے اس کی آمد پر خوشی نہیں منائی۔ ماں دنیا چھوڑ چکی تھی اور گھر والوں کے لیے وہ محض ایک اور بیٹی تھی—گھر کی تیرھویں اولاد، تیرھویں بیٹی۔ یہاں تک کہ وقت کے ساتھ اس کا نام بھی اس کی شناخت نہ رہا، لوگ اسے صرف "تیرھویں" کہنے لگے۔
Guzarish Hai Tujh Se By Ammara Khalid Novel20982
"سامنے والا جتنا بھی بڑا ہو، اگر وہ غلط ہے تو خاموش رہنا بھی غلطی ہے۔"
"غلطی تھی۔۔۔ جرم نہیں۔"
"آپ کو ان سے معافی مانگنی ہوگی۔"
"آپ انہیں ڈرا سکتے ہیں۔۔۔ مجھے نہیں۔"
"معافی مانگنے سے کسی کا قد چھوٹا نہیں ہوتا۔"
"پانچ دن میں ہی تم نے اپنے گیسٹ سے اس طرح بات کرنا سیکھ لیا؟"
"یہ لڑکی باقی سب سے مختلف ہے۔۔۔"
"انٹرِسٹنگ گرل۔۔۔"
Junoon E Ghairat By PC Novel20980
"اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔"
"میں آپ کے سارے کام کر دوں گی، بس میری عزت کا سودا نہ کریں۔"
"چیک پر اپنی مرضی کی رقم لکھ لو اور ہٹ جاؤ میرے سامنے سے۔"
"مجھے مار دیں لیکن میری عزت بخش دیں۔"
"وہ اس کے مرحوم دوست کی بہن تھی… اور اس کی عزت کی حفاظت اب ارقم کی غیرت بن چکی تھی۔"
"میرم کو یقین تھا کہ وہ خرید لی گئی ہے، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ ارقم اسے خریدنے نہیں، بچانے آیا تھا۔۔
Dill Ki Pukar By Mahira Novel20981
ایڈیٹ۔۔ ۔چھوٹی بچی ہو کیا ۔ “وہ غصے سے پاگل ہوتا دلہن بنی عنایہ پر چلایا تھا جو آنکھیں پھیلائے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی پھر شرارت سے مسکرانے لگی۔”چھوٹی بچی ہی ہوں زاویار بھائی۔” وہ چیخ کر بولی جب زاویار کے گھورنے پر زبان دانتوں تلے دبائی۔ “سوری۔۔۔زاویار بھائی نہیں، زاویار شوہر۔۔۔ویسے زاویار شوہر آج آپ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ” وہ خوشی سے بولی تو زاویار کا دل کیا اپنا سر پھوڑ لے۔ وہ اس بچپن کے بےجوڑ رشتے پر کسی صورت راضی نہیں تھا جب وہ دس سال تھا تب عنایہ پیدا ہوئی تھی گھر والوں نے محبت میں ان کا رشتہ طے کر دیا تھا ۔
Teri Mohabbat Ka Inteqam Novel20979
“بدلہ لینے کی خواہش نے اسے برسوں بعد بھی ماضی سے آزاد نہیں ہونے دیا تھا۔”
“مومنہ نے اپنی زندگی خود بنائی تھی، مگر اب کوئی اور اس کی قسمت کا فیصلہ کرنا چاہتا تھا۔”
“کچھ زخم وقت کے ساتھ نہیں بھرتے، بلکہ انسان انہیں اپنے اندر چھپا کر جینا سیکھ لیتا ہے۔”
“وہ اسے حاصل کرنا چاہتا تھا، مگر مومنہ صرف اپنی آزادی چاہتی تھی۔”
Zaat E Ishq By Bisma Khan Novel20978
“میری زندگی کا فیصلہ میری مرضی کے بغیر کیوں کیا گیا؟”
“اس نے سب کچھ قربان کیا تھا، مگر اپنی پڑھائی کا خواب نہیں۔”
“کچھ زخم جسم پر نہیں، انسان کی روح پر لگتے ہیں۔”
“وہ حویلی میں آ تو گئی تھی، مگر اپنے خوابوں کو وہیں دفن کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔”
Teri Zulm Ki Dastan By Bilqees Haroon Novel20977
” حلالہ کرنے کے لیے ایک رات کا ازدواجی تعلق کافی ہوتا ہے مجھے طلاق دو۔۔۔۔” نمل کے گیلے بالوں سے اسکی شرٹ بھیگ کر اسکے جسم کے ساتھ چپک گئی تھی دانیال اپنی شرٹ اتار کر پھینکتا ایک بار پھر سے اسکے گیلے بالوں کو سونگھتا بیڈ پر دھکا دے گیا “ایک رات کی قربت کافی نہیں ہے چند راتیں تو تمہارے اس حسین وجود پر حق جتاوں گا شوہر ہوں تمہارا ” وہ اسے اپنے شکنجے میں دبوچ کر اسے بےبس کرچکا تھا ” یہ جو تمہارے وجود سے پانچ ماہ میں تمہارے شوہر کے دیئے نشان نہیں ختم ہوئے یہ ختم ہونے کے بعد طلاق دوں گا” نمل کی جان نکلی جا رہی تھی دانیال اس پر حاوی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
Mujhe Mukamal Kar Do By Saba Novel20976
” جب تک تم حاملہ نہیں ہو جاتی تب تک میں ایک دن بھی ناغہ نہیں کروں گا۔ مجھ سے کسی بھی رحم کی امید مت کرنا۔ یہ نکاح بس ایک کنٹریکٹ ہے تم میرا وارث پیدا کرو گی جس کے بدلے میں نے ایک بڑی رقم تمہاری ماں کو دی ہے۔” سونیا جو پندرہ سالہ نازک سی لڑکی ملک اسفند کے گرج دار لہجے سے ڈرتی ہوئی صوفے پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس نے سونیا کو بیڈ پر پٹخا اور خود اس پر جھکتا اسے بے لباس کر گیا۔۔۔۔” تمہاری ماں نے مجھ سے بھاری رقم وصول کی ہے۔ اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے بنا سوچے سمجھے تمہیں خریدا ہے۔ ملک اسفند یار ہوں میں۔۔۔۔۔ اس شہر کا سب سے بڑا بزنس مین۔۔۔ آج تک کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔۔۔ اور مجھے لڑکیوں کی کمی نہیں تھی ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی میری سیج سجانے کے لیے تیار تھی۔ مگر تمہاری ماں کو پیسوں کی ضرورت تھی جس کے بدلے میں وہ تمہیں میرے پاس پیچ گئیں۔۔۔۔ اور نکاح بھی بس ایک فارمیلٹی ہے۔ کیونکہ اسفند یار کبھی حرام کام نہیں کرتا۔۔۔” سونیا جو بیچاری اجڑی سی حالت بوسیدہ سے کپڑوں میں ملبوس تھی اس بات سے انجان کہ آج وہ کام والی ماسی سے ملک اسفند کی بیوی بن جائے گی۔
Meri Nain By RM Novel20975
"نین! تم ماں بننے والی ہو۔۔۔ اور ادھر ارباز وارث کے لیے دوسری شادی کر رہا ہے۔"
"اگر اس نے کہہ دیا کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے تو؟ میں کہاں جاؤں گی؟"
"اپنے حق کے لیے کھڑی ہو جاؤ نین، تم ہار نہیں مان سکتی۔"
"اس نے تو اس ظالم کو دل سے چاہا تھا، اپنی روح تک اس کے نام کی تھی… بدلے میں اسے کیا ملا؟"
"وہ رشتہ جس میں اسے محبت ملنی چاہیے تھی، اس کے لیے ذلت اور بے بسی کی زنجیر بن چکا تھا۔"