Family Drama
Barish By Umm E Malaika Novel20870
زندگی ہمیشہ سیاہ اور سفید رنگوں میں تقسیم نہیں ہوتی، بلکہ اس میں ان گنت رنگ اور زاویے ہوتے ہیں۔ اکثر ہم رشتوں کو ایک مخصوص پیمانے سے پرکھتے ہیں، جیسے بیوی اور اولاد ہمیشہ غلط ہوں یا والدین اور شوہر ہمیشہ صحیح۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ بارش ایک ایسا سفر ہے جو آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گا کہ ہر رشتے کی اپنی ذمہ داریاں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ اس کہانی میں بہن بھائی کی محبت، اللہ تعالیٰ سے قربت، اور اولاد کی بہتر پرورش کے اصول کو نہایت دل نشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ ناول آپ کو نہ صرف رشتوں کی نزاکت سمجھائے گا بلکہ آپ کے دل میں نرمی اور برداشت کے نئے دروازے کھولے گا۔
Dair Andher Novel by Asia Razzaqi Novel20867
عمر بھر شوخ، شرارتی اور بے فکر رہنے والی ہیروئن نے اپنا بچپن ہنسی مذاق اور اپنے کزنز کے ساتھ خوشیوں میں گزارا تھا۔ اسے کیا خبر تھی کہ ایک دن اس کی زندگی ایسا رخ اختیار کرے گی جہاں ہر مسکراہٹ چھن جائے گی۔
اس کی پھپھو، جو ہمیشہ سے اسے ناپسند کرتی تھی، اولاد نہ ہونے پر اپنی ازدواجی زندگی بچانے کے لیے اسے اپنے ہی شوہر کی دوسری بیوی بنا کر گھر لے آئی۔ مگر یہ قربانی دینے کے باوجود وہ کبھی اسے اپنی سوتن سے بڑھ کر نہ دیکھ سکی۔
شادی کے بعد ہیروئن کی زندگی ظلم اور اذیت کا دوسرا نام بن گئی۔ جب حالات ناقابلِ برداشت ہو گئے تو اس کا کزن اسے اس جہنم سے نکالنے کے لیے ہر خطرہ مول لینے کو تیار ہو گیا، اور یہی فیصلہ محبت، قربانی اور خاندانی رنجشوں سے بھرے ایک نئے سفر کی ابتدا بن گیا۔
Judai Hath Malti Hai Novel by Farhat Zafar Novel20865
وردہ نے بچپن ہی سے اپنے والد کے بغیر زندگی گزاری۔ اس کی دنیا صرف اپنی ماں تک محدود تھی، جبکہ اس کی خاموش محبت اپنے پھپھو زاد عفان گارویزی کے لیے وقت کے ساتھ ایک مضبوط رشتے میں بدل گئی۔
مگر عفان کے والد کی پرانی دشمنی نے دونوں کی محبت کو قبول نہ کیا۔ انہوں نے وردہ کے خاندان کا کاروبار ہتھیا لیا، اس کی کردار کشی کی اور حالات ایسے بنا دیے کہ وردہ اپنی ماں کے ساتھ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو گئی۔
برسوں بعد جب وردہ واپس لوٹتی ہے تو پرانی دشمنیاں، ادھورے رشتے اور چھپے ہوئے راز ایک بار پھر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اب یہ واپسی صرف ماضی سے ملاقات نہیں، بلکہ محبت، انتقام اور قسمت کے ایک نئے امتحان کی شروعات بن جاتی ہے۔
Jab Dil Miley By Guray Nayyab & Perishah Malik Novel20857
"مصطفیٰ نے گن اپنے ہی سر پر رکھ لی اور زونی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، 'میں آخری بار پوچھ رہا ہوں... ہاں یا ناں؟' ٹریگر پر اس کی انگلی دیکھ کر زونی کی سانسیں رک گئیں۔ نم آنکھوں سے وہ چیخ اٹھی، 'ہاں... کروں گی نکاح!' یہ سن کر سب نے سکون کا سانس لیا، مگر زونی کا لرزتا وجود اس لمحے کے خوف کی گواہی دے رہا تھا۔"
Mere Khwab Novel By Maryam Mah Munir Novel20852
بچپن میں ہوا ایک نکاح، جسے صنوبر نے ہمیشہ اپنا مقدر سمجھا، مگر مجید نے صرف ایک بوجھ۔ برسوں بعد جب والد نے اسے اس رشتے کی یاد دلائی تو اس نے بے رحمی سے طلاق کے کاغذات بھیجنے کی بات کر دی۔ مگر ایک بوڑھے باپ کی صرف ایک خواہش تھی... "طلاق مت دینا۔" صنوبر کو اس فیصلے کا علم بھی نہ تھا، لیکن اس کی پوری زندگی ایک ایسے وعدے کے سہارے کھڑی تھی جسے نبھانے یا توڑنے کا اختیار صرف ایک شخص کے ہاتھ میں تھا۔
Meri Manzil Banay Tera Rasta Novel By Nahid Chaudhary novel20851
سب کے سامنے ہونے والی وہ چند تلخ باتیں البینہ کی پوری دنیا بدلنے کے لیے کافی تھیں۔ شہزیب نے غصے میں اسے "دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والی حقیر لڑکی" کہا تو یہ الفاظ اس کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔ زخمی دل کے ساتھ جب وہ نانو کے پاس پہنچی تو اسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سچ معلوم ہوا۔ وہ جن لوگوں کو اپنا سب کچھ سمجھتی تھی، ان سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ ایک ہی دن میں اس کی محبتیں، اس کی پہچان اور اس کی پوری دنیا سوال بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، اور اب اسے صرف ایک جواب چاہیے تھا... آخر وہ حقیقت میں ہے کون؟
Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850
جب خولہ کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کا علم ہوا تو اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ مگر اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب اسفندیار نے نہ صرف اسے طلاق کی دھمکی دی بلکہ اس کے دونوں معصوم بیٹوں کو بھی اس سے چھین لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک بے بس ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چیختی رہی، مگر اس کے شوہر کے دل میں ذرا سی نرمی نہ آئی۔ گھر کی دہلیز پر ماں کی ممتا، شوہر کی بے وفائی اور ایک عورت کی عزت ایک ساتھ روندی جا رہی تھی، جبکہ بارش میں بھیگتا صحن اس دردناک منظر کا خاموش گواہ بنا کھڑا تھا۔
Khulain Naseeb Mere by Maha Malik Novel20849
وہ خاموشی سے اس کے ہر تلخ لفظ کو سہہ لیتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ قصور اس کا اپنا ہے۔ آخر وہ ایک سانولی، سادہ اور ان پڑھ گاؤں کی لڑکی تھی، جبکہ حیدر ہر لحاظ سے خوبصورت، تعلیم یافتہ اور باوقار انسان تھا۔ وہ سوچتی تھی شاید اس کے نصیب میں محبت لکھی ہی نہیں گئی۔ اگر اس کی موجودگی ہی حیدر کی اداسی اور بے چینی کی وجہ ہے تو پھر وہ خود ہی اس کی زندگی سے دور ہو جائے گی۔ محبت تو قربانی کا نام ہے، اور وہ اپنی محبت کی خاطر خاموشی سے واپس اسی گاؤں لوٹ جانے کا فیصلہ کر لیتی ہے جہاں سے کبھی دل میں ہزاروں خواب سجا کر آئی تھی۔ مگر کیا واقعی اس کی جدائی ہی دونوں کی تقدیر بنے گی، یا قسمت ابھی ایک نیا موڑ سنبھالے بیٹھی ہے؟
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔
Teri Ulfat Me Sanam by Rubina Nadeem Novel20844
رخصتی سے چند لمحے پہلے نمی وصی احمر کے کمرے میں صرف ایک سوال لے کر جاتی ہے، مگر بات سوال سے بڑھ کر انا، غرور اور دل توڑ دینے والے الفاظ تک جا پہنچتی ہے۔ وصی کے جرمنی چلے جانے اور شادی سے فرار کی حقیقت جان کر نمی اسے صاف کہہ دیتی ہے کہ اگر آج اس سے دوبارہ پوچھا جاتا تو وہ کبھی اس سے شادی نہ کرتی۔ وہ اسے دوسری شادی کی تحریری اجازت بھی دے دیتی ہے اور واضح کر دیتی ہے کہ ان دونوں کے درمیان صرف ایک رسمی رشتہ ہے۔ نمی کے یہ الفاظ وصی کے غرور پر کاری ضرب ثابت ہوتے ہیں۔ غصے میں وہ اعلان کر دیتا ہے کہ شادی کے بعد وہ خود اسے طلاق دے گا۔ دونوں ایک دوسرے کو ٹھکرا کر الگ ہونا چاہتے ہیں، مگر قسمت ان کے لیے ایک بالکل مختلف کہانی لکھ چکی ہوتی ہے۔