Main Ne Tera Naam Dil Rakh Diya By Mahnoor Khan 

Cousin Base | After Marriage |  Rude Hero | Social issues | love story | Romantic Urdu Novel | Complete Novel

پریوں کی حیا جہا نگیر اب عام سے گھرانے کی عام سی عورت تھی۔ وہ عورت جسے قاتلہ کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
وہ سبزی خرید کرفٹ پاتھ کے کنارے چلنے لگی۔ دونوں ہاتھوں میں سامان کے شاپر ز تھے۔ سفید دو پٹہ مفلر کی طرح گلے میں پڑا ہوا تھا۔ وہ نظریں جھکائے پاؤں تھسیٹتے چل رہی تھی جب اس کے پاس سرخ رنگ کی کار آکر رکی اور پھر کار سے تھری پیس سوٹ میں، گا گلز پہنے ایک خوبرو سامر د باہر نکلا اور اگلے سیکنڈ میں وہ اس کے روبرو تھا۔ حیا نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا اور سامنے موجود شخص کو دیکھ کر وہ ٹھہر ہی تو گئی تھی۔ آنکھوں میں نمی سی تیری تھی۔
سامنے والے کی آنکھیں بھی شاید ڈبڈبائی تھیں۔ گا گلز اتار کر اس نے انگلیوں کی پوروں سے آنکھوں کے کنارے صاف کیئے تھے۔
آنکھیں میچتے حیا نے نمی کو اندر دھکیلا تھا۔ ہونٹ چباتے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ وہ اب دانستہ بھی اس شخص کو دیکھتی توریت کی مانند بکھر کر رہ جاتی۔ وہ شخص جسے اس آخری دن کے بعد آج پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ آخری دن جو رخصتی سے ایک دن پہلے کا تھا۔ وہ دن جس دن وہ رو پڑا تھا۔ وہ دن جب دونوں کی پانچ سالہ محبت کے راستے جدا ہوئے تھے۔
کیسی ہو گیا ! یہ رسمی سا سوال بس بات کا آغاز تھاور نہ وہ جانتا تھا سامنے کھڑی لڑکی ٹھیک نہیں ہے۔ اچھی ہوں “ اس نے لہجے کو مستحکم رکھنا چاہا تھا مگر ہائے افسوس ایک آنسو اس کے ضبط کی توہین کر گیا۔
میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں“ اس نے سامان کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔ حیا نے فوراً سے ہاتھ پیچھے گئے۔ وہ اپنی ذمہ داریاں خود نبھانا چاہتی تھی۔ وہ اپنے کئے کی سزا خود بھگتنا چاہتی تھی۔

دو میں تمہیں یاد کرتا ہوں حیا بہت یاد کرتا ہوں“ بد حالیاں اوڑھے اس شخص کی آواز میں اوس اتر نے لگے تھے ۔۔ وہ سر جھٹک کر مسکرائی۔
اور مجھے اپنا ماضی یاد کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی ، اس نے سچ بولا تھا اگرچہ سچ تلوار تھا جو سننے والے کو کاٹ ڈالتا تھا۔
دونوں کے درمیان کتنی دیر تک خاموشی چھائی رہی تھی۔ اس خاموشی کو موٹر سائیکل کی بے ہنگم آواز نے توڑا
تھا۔ حیا نے رخ موڑ کر دیکھا۔ وہ موٹر سائیکل سوار ہائم نوید تھا جس کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے۔ حیا نے ایک گہر اسانس خارج کیا۔ اچھے دوست کو شوہر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ آپ کے ماضی سے واقف ہوتا ہے اور ایک شوہر بیوی کا ماضی فراموش نہیں کر سکتا۔
ہا تم نوید جانتا تھا حیا جہا نگیر عمر سلطان سے محبت کرتی ہے اور آج دونوں کو یوں سر راہ ایک دوسرے کے روبرو کھڑے دیکھ کر وہ غصے سے بل کھا کر رہ گیا تھا۔
عمر سلطان کو نظر انداز کرتا اس نے بائیک سے اتر کر اس نے حیا سے شاپر ز پکڑے اور بائیک پر رکھ دیئے۔ حیا پیچھے مانے کر بیٹھی تو وہ بائیک بھگاتا ہوا لے گیا اور پیچھے کھڑ ا مسافر اسے جاتا دیکھتار ہاوہ مسافر جو ٹھکانے تلاش کر رہا تھا اور ٹھکانہ بھی حیا جہا نگیر کی زندگی میں۔

 

Cousine Marriage Base Novels

Romantic Urdu Novels

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *