Emotional Drama
Qurbat E Man By Huma Qureshi Novel20996
"یہ ماں بننے والی ہے!" بارات والے دن یہ خبر سب کے لیے ایک قیامت بن گئی۔
"کس کا بچہ ہے یہ؟" زرک کی دھاڑ نے پورے کمرے کی خاموشی توڑ دی۔
"میں نے بولا بھی تھا مجھے نہیں کرنا ان سے نکاح!" ہیزل کی معصوم سی شکایت پر سب ہنس پڑے۔
جس مرد سے وہ سب سے زیادہ چڑتی تھی، آج وہی اس کے نصیب میں لکھا جا چکا تھا۔
"مجھے طلاق دلوائیں!" ہیزل کی دہائیوں نے گھر میں ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا۔
کبھی نفرت سے شروع ہونے والے رشتے دل کی سب سے خوبصورت قربت بن جاتے ہیں۔
Dill Reza Reza By Saloni Novel20995
"یہ آفس ہے، کچھ تو خیال کریں!" جیا کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی۔
"اپنی منکوحہ سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے مجھے کسی جگہ کی اجازت نہیں چاہیے۔"
شاہویر کی ایک نظر نے جیا کی پوری دنیا بدلنے کا آغاز کر دیا تھا۔
وہ خفیہ نکاح جس کا راز ایک دن سب کے سامنے آنے والا تھا۔
جیا کو کیا معلوم تھا کہ یہ نوکری اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ بن جائے گی۔
جب محبت کے ساتھ ایک ننھی سی زندگی نے ان کے درمیان جگہ بنائی، تو سب کچھ بدل گیا۔
Mohabbat Lazawal Novel20991
مہوش کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر ارہم کے چہرے پر سختی بدستور قائم تھی۔
"سر، میں بھیک نہیں مانگ رہی... میں کام کر کے آپ کا ایک ایک روپیہ واپس کر دوں گی، بس میرے بھائی کی جان بچا لیجیے۔"
مگر ارہم نے بے رحمی سے منہ پھیر لیا۔
مہوش نے کانپتے ہاتھوں سے استعفیٰ لکھا اور آنسو پونچھتے ہوئے کیبن سے باہر نکل گئی۔
اسے کیا معلوم تھا کہ اس ایک فیصلے کے بعد اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی۔
Sard E Mohabbat By Umaima Mukaram Novel20990
مجھے آپ کی بھیک کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں ضرور نوکری کروں گی!" نین تارا نے دوٹوک لہجے میں کہا تو دلاور اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔ "اگر بیوی کا غیر محرم سے بات کرنا اتنا برا لگتا ہے نا، تو میرے پاس تو آپشن نہیں تھا دلاور۔۔۔ پر آپ کے پاس تو آپشن ہے نا، طلاق کا۔۔۔ طلاق دے دیں مجھے!" اس کی بات پر دلاور کے غصے کی شدت بڑھ گئی، مگر حقیقت سامنے آنے کے بعد اس کے اپنے رویے پر شرمندگی حاوی ہونے لگی۔ بیک یارڈ میں گھٹنوں میں سر دیے روتی ہوئی نین تارا کو دیکھ کر اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے اپنی ہی بیوی کو کتنی تکلیف دی تھی۔ "غلطی اس نے کی تھی تو معافی مانگنا تو ضروری تھی!" وہ خود سے کہتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا، مگر نین تارا نے اس کی موجودگی محسوس کرنے کے باوجود سر نہ اٹھایا۔
Dill E Mehram By Ayesha Majeed Novel20986
"دوسری شادی کرنی ہے تو کریں، پر مجھے طلاق دیں۔"
"میں نے تمہاری غربت میں تمہارا ساتھ دیا تھا، تمہاری امیری میں اپنا حق نہیں مانگا تھا۔"
"کیا عزت اور سچی محبت کا نعم البدل صرف روٹی کپڑا ہوتا ہے؟"
"تم نے مجھ سے طلاق مانگی ہے نا سنیناں؟ تو آج تمہیں وہی ملے گا جو تم نے مانگا ہے۔"
"کبھی کبھی عورت کو ٹوٹنے کے بعد ہی اپنی اصل طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔"
Aandhion Se Likhe Naseeb by Fareeda Kanwal Shareef Novel20985
"رسم و رواج کی زنجیروں نے مشعل کی قسمت کا فیصلہ اس کی مرضی سے پہلے ہی کر دیا تھا۔"
"وقت کے ساتھ سیف کو ان رشتوں کی حقیقت سمجھ آنے لگی جنہیں وہ بچپن میں سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔"
"مشعل نے خود جو درد سہا تھا، وہ نہیں چاہتی تھی کہ سمن بھی اسی درد سے گزرے۔"
"کچھ رشتے وقت کے ساتھ بدلتے ہیں، مگر کچھ احساسات دل میں خاموشی سے اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔"
"مشعل نے سمن کو اپنی طرح حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے اس کے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا۔"
Guzarish Hai Tujh Se By Ammara Khalid Novel20982
"سامنے والا جتنا بھی بڑا ہو، اگر وہ غلط ہے تو خاموش رہنا بھی غلطی ہے۔"
"غلطی تھی۔۔۔ جرم نہیں۔"
"آپ کو ان سے معافی مانگنی ہوگی۔"
"آپ انہیں ڈرا سکتے ہیں۔۔۔ مجھے نہیں۔"
"معافی مانگنے سے کسی کا قد چھوٹا نہیں ہوتا۔"
"پانچ دن میں ہی تم نے اپنے گیسٹ سے اس طرح بات کرنا سیکھ لیا؟"
"یہ لڑکی باقی سب سے مختلف ہے۔۔۔"
"انٹرِسٹنگ گرل۔۔۔"
Junoon E Ghairat By PC Novel20980
"اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔"
"میں آپ کے سارے کام کر دوں گی، بس میری عزت کا سودا نہ کریں۔"
"چیک پر اپنی مرضی کی رقم لکھ لو اور ہٹ جاؤ میرے سامنے سے۔"
"مجھے مار دیں لیکن میری عزت بخش دیں۔"
"وہ اس کے مرحوم دوست کی بہن تھی… اور اس کی عزت کی حفاظت اب ارقم کی غیرت بن چکی تھی۔"
"میرم کو یقین تھا کہ وہ خرید لی گئی ہے، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ ارقم اسے خریدنے نہیں، بچانے آیا تھا۔۔
Teri Zulm Ki Dastan By Bilqees Haroon Novel20977
” حلالہ کرنے کے لیے ایک رات کا ازدواجی تعلق کافی ہوتا ہے مجھے طلاق دو۔۔۔۔” نمل کے گیلے بالوں سے اسکی شرٹ بھیگ کر اسکے جسم کے ساتھ چپک گئی تھی دانیال اپنی شرٹ اتار کر پھینکتا ایک بار پھر سے اسکے گیلے بالوں کو سونگھتا بیڈ پر دھکا دے گیا “ایک رات کی قربت کافی نہیں ہے چند راتیں تو تمہارے اس حسین وجود پر حق جتاوں گا شوہر ہوں تمہارا ” وہ اسے اپنے شکنجے میں دبوچ کر اسے بےبس کرچکا تھا ” یہ جو تمہارے وجود سے پانچ ماہ میں تمہارے شوہر کے دیئے نشان نہیں ختم ہوئے یہ ختم ہونے کے بعد طلاق دوں گا” نمل کی جان نکلی جا رہی تھی دانیال اس پر حاوی ہوچکا تھا۔۔۔۔۔۔
Mujhe Mukamal Kar Do By Saba Novel20976
” جب تک تم حاملہ نہیں ہو جاتی تب تک میں ایک دن بھی ناغہ نہیں کروں گا۔ مجھ سے کسی بھی رحم کی امید مت کرنا۔ یہ نکاح بس ایک کنٹریکٹ ہے تم میرا وارث پیدا کرو گی جس کے بدلے میں نے ایک بڑی رقم تمہاری ماں کو دی ہے۔” سونیا جو پندرہ سالہ نازک سی لڑکی ملک اسفند کے گرج دار لہجے سے ڈرتی ہوئی صوفے پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس نے سونیا کو بیڈ پر پٹخا اور خود اس پر جھکتا اسے بے لباس کر گیا۔۔۔۔” تمہاری ماں نے مجھ سے بھاری رقم وصول کی ہے۔ اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے بنا سوچے سمجھے تمہیں خریدا ہے۔ ملک اسفند یار ہوں میں۔۔۔۔۔ اس شہر کا سب سے بڑا بزنس مین۔۔۔ آج تک کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔۔۔ اور مجھے لڑکیوں کی کمی نہیں تھی ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی میری سیج سجانے کے لیے تیار تھی۔ مگر تمہاری ماں کو پیسوں کی ضرورت تھی جس کے بدلے میں وہ تمہیں میرے پاس پیچ گئیں۔۔۔۔ اور نکاح بھی بس ایک فارمیلٹی ہے۔ کیونکہ اسفند یار کبھی حرام کام نہیں کرتا۔۔۔” سونیا جو بیچاری اجڑی سی حالت بوسیدہ سے کپڑوں میں ملبوس تھی اس بات سے انجان کہ آج وہ کام والی ماسی سے ملک اسفند کی بیوی بن جائے گی۔