Rude Hero Based
Wo Kharoos Sa by Mahwish Urooj Novel20863
"میرے نزدیک امیری اور غریبی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اگر رشید خان راضی ہوں تو میں اپنے پوتے غزنوی احمد کا نکاح ان کی بیٹی سے کرنا چاہتا ہوں۔" اعظم احمد کے یہ الفاظ سنتے ہی رشید خان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ ایک لمحے میں ایک غریب باپ کی سب سے بڑی فکر ختم ہو گئی، جبکہ بادشاہ خان اپنی ناکام چال پر خاموشی سے ہاتھ ملتا رہ گیا۔
Be Zuban Qurbani By MK Khan Novel20862
"وہ صرف کاغذ پر نہیں تھا، لالا... وہ میرے احساسوں میں تھا۔ کچھ لوگ صرف کہانیوں میں نہیں رہتے، دل میں بھی جگہ بنا لیتے ہیں۔" سروین کی یہ بات سن کر سنان بھی چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا، مگر اگلے ہی لمحے اس نے ہنستے ہوئے کہا، "کل سے ناول پڑھنے سے پہلے وصیت لکھ دینا!" دونوں بہن بھائی کی یہی محبت اور ہلکی پھلکی نوک جھونک اس منظر کو یادگار بنا دیتی ہے۔
Inteqam By Soha Khan Novel20860
"اگر تم نے مجھے اپنی گینگ میں شامل نہ کیا تو میں آرمی کو تمہارے بارے میں سب کچھ بتا دوں گی۔" لڑکی نے پُراعتماد انداز میں کہا اور ثبوت کے طور پر ویڈیو اس کے سامنے رکھ دی۔ پہلی بار 'دی گریٹ ڈیول' کسی کے حوصلے اور بےخوفی سے متاثر ہوا۔ اس نے اسے ایک خطرناک مشن کی پیشکش کی اور کہا، "اگر یہ کیس حل کر لیا تو تم میری گینگ کا حصہ ہو۔"
Rooh E Man By Isha Khan Novel20858
"اگر تم میری شرط مان لو تو اب بھی میرے ساتھ کام کر سکتی ہو۔" سلمان کی غلیظ پیشکش سنتے ہی سوہا کا صبر ٹوٹ گیا۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سامنے رکھا جوس کا گلاس اس کے چہرے پر دے مارا، اور جب وہ اس کی طرف بڑھا تو کانچ کا گلدان پوری قوت سے اس کے سر پر دے مارا۔ اس ایک وار نے ثابت کر دیا کہ سوہااپنی عزت اور خودداری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
Jab Dil Miley By Guray Nayyab & Perishah Malik Novel20857
"مصطفیٰ نے گن اپنے ہی سر پر رکھ لی اور زونی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، 'میں آخری بار پوچھ رہا ہوں... ہاں یا ناں؟' ٹریگر پر اس کی انگلی دیکھ کر زونی کی سانسیں رک گئیں۔ نم آنکھوں سے وہ چیخ اٹھی، 'ہاں... کروں گی نکاح!' یہ سن کر سب نے سکون کا سانس لیا، مگر زونی کا لرزتا وجود اس لمحے کے خوف کی گواہی دے رہا تھا۔"
Ek Thi Heer Novel By Aiman Akmal Novel20856
وہ پہلی لڑکی تھی جو گئی تو جاب انٹرویو کے لیے تھی مگر کمپنی کے مالک کو ہی بیٹھی دھمکا رہی تھی کہ اگر اس نے اسے جاب پر نا رکھا تو اسکے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔
Dam E Ashqam BY HZ Novels Novel20838
ایک ہونہار طالبہ کے خواب اس وقت بکھر گئے جب تعلیم کی جگہ اس پر زبردستی رشتے اور ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دیا گیا۔
"تم گھر بیٹھ کر بچے پیدا کرو..." ایک جملہ جس نے عنیزہ کی آزادی، تعلیم اور خواہشات کو قید کر دیا۔
شہر جا کر اپنی پہچان بنانے کا خواب دیکھنے والی عنیزہ کو اندازہ بھی نہ تھا کہ اس کا مقدر اسے ایک ایسی زندگی میں دھکیلنے والا ہے جہاں ہر دن ایک نئی آزمائش بن جائے گا۔
Gangster By Laiba Khan Novel20817
طاقت، انتقام اور خونریز دشمنیوں کے بیچ ایک ایسی محبت نے جنم لیا جس کا تصور بھی ناممکن تھا۔
وہ گینگسٹر تھا، جس کے فیصلوں سے لوگ کانپتے تھے، مگر ایک لڑکی کی آمد نے اس کی پوری دنیا بدل دی۔
ہر موڑ پر نئے راز، خطرناک سازشیں اور جان لیوا دشمن اس محبت کو مسلسل آزماتے رہے۔
The Evil Lady By Mahi Shah Novel20803 | Complete Urdu Novel
مہندی کی خوشبو سے مہکتا کمرہ اچانک اندھیرے میں ڈوب گیا۔ دلہن کے چہرے پر خوشی کی جگہ خوف نے لے لی۔ خاموشی کو ایک پراسرار آواز نے چیر دیا۔
"گمنام ہے کوئی... بدنام ہے کوئی... کس کو خبر کون ہے وہ..."
لڑکی کے ہونٹوں سے بے اختیار ایک نام نکلا... "ایول!"
فل بلیک سوٹ، چہرے پر مکمل ماسک، اور صرف بھوری آنکھیں... سامنے کھڑی وہ پراسرار لڑکی کسی انسان سے زیادہ موت کا روپ لگ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں چمکتا ہوا چاقو تھا، جس پر نمایاں لفظ "ایول" ہر دیکھنے والے کے دل میں خوف اتار دیتا تھا۔
"تمہیں میرے عشق سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی..."
یہ جملہ سن کر دلہن کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی، مگر ایول کے فیصلے کے سامنے ہر دلیل بے معنی تھی۔ اگلے ہی لمحے کمرہ چیخوں، خون اور خاموشی کے خوفناک امتزاج میں بدل گیا، جہاں ہر لمحہ زندگی اور موت کے درمیان ایک نئی جنگ لکھ رہا تھا۔
کیا ایول صرف ایک بے رحم قاتل ہے، یا اس کے انتقام کے پیچھے کوئی ایسا راز چھپا ہے جس سے سب بے خبر ہیں؟
Talabgar E Mohabbat By Misha Hayat Novel 20802 | Complete Urdu Novel
حورم نے جب پہلی بار اسے دیکھا تو وقت جیسے تھم گیا۔ وہ کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ نیلی آنکھیں، پُروقار شخصیت اور سرد لہجہ... اس کی موجودگی نے حورم کو خوف اور حیرت کے عجیب احساس میں مبتلا کر دیا۔
"مجھے بچا لیں... پلیز... وہ لوگ مجھے پکڑ لیں گے۔"
حورم کی آنکھوں میں خوف، آنسو اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی، جبکہ زرخان کی نظریں اس کے معصوم چہرے پر ٹھہر گئی تھیں۔ چند لمحے پہلے تک وہ اسے ایک اجنبی سمجھ رہا تھا، مگر اب اس کی بے بسی اس کے دل کے بند دروازوں پر دستک دے رہی تھی۔
جب حورم نے لرزتی آواز میں اپنے اغوا، اپنی دوست کے قتل اور ایک پراسرار "ڈیول" کا ذکر کیا تو زرخان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ معاملہ صرف ایک لڑکی کو بچانے کا نہیں، بلکہ ایک ایسے خطرناک راز کا ہے جو کئی زندگیاں بدل سکتا ہے۔
کیا زرخان حورم کو اس خوفناک جال سے نکال پائے گا، یا وہ بھی اسی اندھیرے کا شکار بن جائے گا؟