Chasheen By Nayab Jelani Novel20003
Chasheen By Nayab Jelani Novel20003
چاشین نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ شادی کی پہلی ہی رات دیان اروب کاظمی اس کے سامنے محبت کے بجائے اپنی شرائط رکھ دے گا۔ عمر میں کئی سال بڑے، مغرور اور سخت مزاج دیان نے واضح کر دیا تھا کہ اب چاشین کی سوچ، خواہشات اور زندگی صرف اسی کے تابع ہوں گی۔ اس کے اصولوں سے اختلاف کی صورت میں وہ اسے آزاد کرنے کو تیار تھا، مگر چاشین کے لیے میکے واپسی کا تصور بھی خوفناک تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے خاندان میں شادی کے بعد لڑکی کے لیے واپسی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ اسی خوف سے اس نے دیان کی قید قبول کر لی۔ لیکن کیا اس بے رحم شخص کے دل میں کبھی چاشین کے لیے نرمی پیدا ہو سکے گی؟
Chasheen By Nayab Jelani
جو شخص اپنی شادی کی پہلی رات بھی اپنی فطرت، موڈ اور مزاج کے تابع ہو کر خود میں تبدیلی لانے کا روادار نہیں تھا، وہ زندگی کے کسی بھی مقام پہ اپنے معیار سے ایک انچ نیچے آنا گوارا نہیں کر سکتا تھا۔ کیسے جھک جاتا؟ کس طرح سے تابع ہو جاتا؟ اس نے ساری گفتگو کے لفظ لفظ کو گرہ میں باندھا اور اندر تک شکستہ ہو گئی۔ وہ اس کا دھلا دھلایا، شفاف اور سادہ روپ دیکھ کر قدرے مطمئن تھیں۔ وہ اس وقت گلابی سادے سے لباس میں، گلابی رنگ کے سارے عکس چہرے پہ لیے، خاموش اور سوگوار کھڑی تھی، اپنے لیے دوسرے حکم نامے کے منتظر۔اس کے کپکپاتے ہاتھوں میں نمی بھرنے لگی، اس کا نازک سا، کمزور بدن ہولے ہولے لرزنے لگا اس کی جھکی نگاہیں اٹھنے کی طاقت کھو بیٹھیں، قریب تھا کہ وہ گر جاتی، معا ایک مردانہ اور بارعب سی آواز اس کی بہری ہوتی سماعتوں سے ٹکرائی تھی، اس کا رواں رواں کان بن گیا۔
“یہاں تک آ سکتی ہو تو آگے بحیرہ روم نہیں بہہ رہا جس میں ڈوب جاؤ گی۔ ادھر آؤ۔” دیان کی آواز نیم روشنی میں ابھری تھی۔ چاشین کے جسم میں پھریری سی آئی، اس نے سینے میں اٹکا، الجھتا، مچلتا سانس بمشکل کھینچا تھا۔
“یہاں آؤ۔” یوں لمحوں میں فیصلہ ہوا اور چاشین کے لیے جگہ متعین ہو گئی۔ اسے کہاں جگہ ملنی تھی؟ پیروں میں یا پہلو میں؟ اس کی حیثیت کا بھی تعین ہو چکا تھا۔ دیان نے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ سر جھکائے حکم پر عمل پیرا ہوئی تھی اور اس کے قریب بیٹھ گئی۔ دیان نے دو تکیوں کو کراؤن سے لگایا اور فرصت و سہولت سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ گھبرائی تھی، ڈری ڈری تھی، سہمی سہمی تھی۔ اس کے انداز میں شرم بھی تھی، خوف بھی تھا، جھجک بھی تھی۔ وہ اس کا بغور مطالعہ کرتا رہا، اسے انسانوں کے مطالعے کا خاصا تجربہ تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا اور اس کے نو عمر سراپے سے نگاہیں ہٹا لیں۔ وہ ہر لحاظ سے دیان اروب کاظمی کے مقام سے بہت پیچھے تھی؛ سوچ میں، عقل میں، عمر میں، اور واقعی ہی عمر میں بہت ہی پیچھے تھی، بے شمار سال۔ اس کی عمر کتنی ہو گی؟ پندرہ سال یا قریب قریب سولہ؟ اس سے زیادہ کی توقع تو حماقت تھی۔ چاشین؟ یعنی چاشنی میں ڈوبی ہوئی؟ ہاؤ سویٹ!
اس کا انداز بدل گیا تو چاشین حیران رہ گئی تھی۔ جانے اس میں فنی کیا تھا؟ وہ سمجھ ہی نہ پائی اور دیان کے ہاتھ کچھ آگے بڑھ آئے تھے، اس نے چاشین کے رخسار کو چھوا تھا، وہ خوف سے ہلکا سا کس مسائی۔ دیان کے پتھریلے، سنجیدہ اور خشک تاثرات میں واضح تبدیلی آ گئی تھی۔ اس کا نازک سر ہولے ہولے لرزنے لگا، کانپنے لگا، اسے شرم آ رہی تھی۔ اس نے جھکی آنکھوں سے خود پر ایک موسم اترتے دیکھا؛ جانے خزاں کا تھا، جانے پیار کا تھا، جانے جاڑے کا تھا۔ وہ تو سمجھ ہی نہ پائی تھی۔ اس کے اوپر تو چھایا ہوا موسم خود پسندی کا تھا، احساسِ برتری کا تھا۔ اس نے نظریں اٹھا کر دیان کی طرف دیکھا، وہ اس کے قریب تھا، اس پہ جھکا ہوا، چھایا ہوا، اور اس کے الفاظ ایسے تھے جیسے ہندہ کی برف ڈھکی سرمئی چٹانیں؛ سخت، نوکیلے اور پتھریلے الفاظ۔
“اور تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ تم دیان اروب کی خواب گاہ میں ہو گی، اس کے اتنے قریب؟ اس قدر قریب؟ ایسی بات ہے نا؟” وہ بڑے دبدبے اور رعب سے پوچھ رہا تھا۔ چاشین بھلا کیا جواب دیتی! لیکن وہ جواب مانگ رہا تھا تو اسے جواب دینا ہی تھا، بولنا ہی تھا دل چاہتا یا نہ چاہتا۔
“جی۔” اس جی میں دیان کے احساسِ برتری کی تقویت تھی۔ وہ ایسے مسکرایا جیسے کوئی فاتح جرنیل مسکراتا ہے اور یہ پہلی مسکراہٹ تھی جو اس کے گلابی ہونٹوں پہ چمکی تھی، ورنہ لگتا نہیں تھا کہ اس چہرے پہ کبھی مسکراہٹ آ سکتی ہے۔
“تم اپنے نام کی طرح ہو اس کا لمس خواب آفریں تھا، لبریز، بھرا ہوا، چھلکتا ہوا، اور اس کی شرابی نگاہوں کا سمِ قاتل اس کے دل کو، ایوانوں کو پاگل کر رہا تھا۔ وہ ایک موسم کی طرح اتر آیا تھا، چھا گیا تھا۔ ولیمے کے بعد زندگی معمول پر آ گئی تھی، اور ولیمے پہ امن آباد پورا کا پورا اٹھ آیا تھا۔ ولیمہ ریسپشن بہت اعلیٰ تھا، اس نے اپنے ولیمے کے فنکشن میں بڑا ہی گلیمر دیکھا تھا یہاں آؤ۔” نیم خاموشی میں دیان کی آواز ابھری تھی، وہی تحکم بھرا لہجہ۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ابھی کچھ ہلکے لہجے میں مخاطب تھا اور اب سنجیدہ سا، تلخ دریا انداز تھا دیان کا جو چاشین کے لیے مخصوص تھا! اس حکم نامے کے پر چاشین کو سر اٹھا کے دیکھنا پڑا تھا اور اس کا ایک ہاتھ چاشین کی طرف بڑھا ہوا تھا۔ اس کے دیکھنے پر نگاہیں ملیں تو چاشین کا جی دھڑک اٹھا تھا۔
“میں ذرا مختلف ہوں، انفرادیت کو پسند کرتا ہوں، لیکن ہاں! اپنی ذات کی حد تک۔ تم یہاں میری وجہ سے ہو اور مجھ تک محدود رہو گی۔ تمہاری پچھلی زندگی کیا تھی؟ کس طرح سے تھی؟ اسے بھول جاؤ۔ اس نئے سیٹ اپ میں خود کو ایڈجسٹ کرو۔ تم میری ذات کے نام کے دائرے میں مقید ہو۔ سوچو گی تو صرف مجھے، دیکھو گی تو صرف مجھے، چاہو گی تو صرف مجھے! تمہارا خیال، تمہاری سوچ، تمہارا شعور آج کے بعد میرے پاس گروی ہے۔ تمہارے احساسات، جذبات، خواب اور امنگیں میرے حصار میں ہیں۔ تم دھڑکو گی تو میرے اندر اور سانس بھی لو گی تو مجھ سے پوچھ کر! میری زندگی میں رہنا چاہتی ہو تو میرے تابع رہو گی، میری مرضی پر چلو گی اور میرے اصولوں سے انحراف نہ کرو گی۔ اگر نہیں، تو تم پہ کوئی پابندی نہیں، کوئی زبردستی نہیں، میں تمہیں اس قید سے آزاد کر سکتا ہوں۔” وہ اس کے سر جھکائے، دھیمی، بوجھل آواز میں اپنی سونا پگھلاتی آنکھوں کا سمِ قاتل انڈیل رہا تھا اور وہ گم صم ہوتی سماعتوں سے ساکت کھڑی تھی، ایسے مجسمے کی طرح جو چاندی میں ڈھلتا تھا لیکن بے سانس کھڑا تھا۔ دیان کے الفاظ میں ایسا کرنٹ تھا جس نے چاشین کو پوری جان سے جھنجوڑ ڈالا تھا۔ وہ پتھرائی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تھی، پھر اس کے سرخ چمکیلے ہونٹوں پہ تڑپ سی ابھری:
“نہیں۔.. نہیں ! مجھے آزادی نہیں چاہیے۔” اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا، سہم اتر آیا تھا، ڈر اتر آیا تھا۔ وہ واپس نہیں جانا چاہتی تھی، اسے یہی زندگی قبول تھی، دیان کی قید منظور تھی۔ وہ تو کشتیاں جلا کر آئی تھی؛ ہر لڑکی میکے کی دہلیز پار کر کے کشتیاں جلا ڈالتی ہے، پھر لوٹنے یا پلٹنے کا کیا گمان؟ وہ جانتی تھی ادھر سے دھتکاری جاتی تو اسے جان سے عزیز چچا بھی قبول نہ کرتے، وہ اس کا فرض ادا کر چکے تھے، مطمئن ہو چکے تھے اور چاشین کسی نادانی میں آ کر اپنی زندگی وبال کرنا نہیں چاہتی تھی۔ ان کے خاندان میں ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا؛ لڑکی شادی کے بعد میکا چھوڑتی اور سسرال سے مر کے ہی نکلتی، تو پھر ایسی بات تو اس کے گمان میں بھی کبھی نہیں آئی تھی۔ اس کی تڑپ میں کچھ تو ایسا تھا جس نے دیان کو چونکا دیا تھا۔
جو شخص اپنی شادی کی پہلی رات بھی اپنی فطرت، موڈ اور مزاج کے تابع ہو کر خود میں تبدیلی لانے کا روادار نہیں تھا، وہ زندگی کے کسی بھی مقام پہ اپنے معیار سے ایک انچ نیچے آنا گوارا نہیں کر سکتا تھا۔ کیسے جھک جاتا؟ کس طرح سے تابع ہو جاتا؟ اس نے ساری گفتگو کے لفظ لفظ کو گرہ میں باندھا اور اندر تک شکستہ ہو گئی۔ وہ اس کا دھلا دھلایا، شفاف اور سادہ روپ دیکھ کر قدرے مطمئن تھیں۔ وہ اس وقت گلابی سادے سے لباس میں، گلابی رنگ کے سارے عکس چہرے پہ لیے، خاموش اور سوگوار کھڑی تھی، اپنے لیے دوسرے حکم نامے کے منتظر۔اس کے کپکپاتے ہاتھوں میں نمی بھرنے لگی، اس کا نازک سا، کمزور بدن ہولے ہولے لرزنے لگا اس کی جھکی نگاہیں اٹھنے کی طاقت کھو بیٹھیں، قریب تھا کہ وہ گر جاتی، معا ایک مردانہ اور بارعب سی آواز اس کی بہری ہوتی سماعتوں سے ٹکرائی تھی، اس کا رواں رواں کان بن گیا۔

[pdfjs-viewer url=”https://novelistan.pk/wp-content/uploads/2025/01/Chasheen-by-nayab-jelani.pdf” attachment_id=”11101″ viewer_width=100% viewer_height=800px fullscreen=true download=false print=false]
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Download Novel PDF
Frequently asked questions
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under After Marriage and Age Difference.
Where can I read Chasheen By Nayab Jelani Novel20003?
The reading content is available in the Read online section of this page.
Amazing novels