Revenge based | Islamic based | Rude hero | Doctor Lawyer based | Romantic Novel
سیرت کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے سامنے بیٹھے نائل کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔سیرت اسے دیکھتے ہی جلدی سے اُٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔
ڈر اس کے چہرے پر عیاں تھا۔نائل ابھی بھی اسے آرام سے بیٹھا دیکھ رہا تھا۔
ڈر کیوں رہی ہو؟ تمہیں اُن لوگوں سے بچا کر لے آیا ہوں تمہیں تو میرا شکرگزار ہونا چاہیے
نائل نے گھمبیر لہجے میں سیرت کو دیکھتے کہا جس کے چہرے پر پہلے حیرت پھر غصے کے تاثرات ابھرے تھے۔
آج اس مقام پر مجھے پہنچانے والے بھی آپ ہی ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں میں آپ کا شکریہ ادا کروں؟ میرے گھر والوں کے سامنے آپ نے مجھے دو کوڑی کا کر کے رکھ دیا وہ کیا سوچ رہے ہوں گئے کہ میں کتنی بےشرم لڑکی ہوں جو کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی اور اُس کے ساتھ راتیں گزار کر واپس آگئی؟ میری ماں کی نظریں شرمندگی سے جھک گئی تھیں صرف آپ کی وجہ سے سیرت نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔
اور وہاں سے اُٹھ گئی ابھی بھی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آرہا تھا۔
نائل نے سیرت کی ساری بات آرام سے سنی تھی اور اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
کہاں جا رہی ہو؟ نائل نے سیرت کو دروازے کی طرف جاتے دیکھا تو اسے بازو سے پکڑتے روک کر پوچھا۔
کہی بھی چلی جاؤں گی لیکن یہاں نہیں رہوں گی آپ جیسے انسان کے ساتھ تو بلکل بھی نہیں سیرت نے نائل کا ہاتھ جھٹکتے کہا۔
حویلی جاؤ گی؟
نائل نے سینے پر ہاتھ باندھتے پوچھا۔
جہنم میں بھی چلی جاؤں گی لیکن یہاں آپ کے گھر نہیں رہوں گی۔
سیرت نے اپنی گال پر بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے کہا۔
میری اجازت کے بغیر تم یہاں سے باہر قدم نہیں نکال سکتی اس لیے کوشش کرنا بیکار ہے باقی تمھارا اپنا گھر ہے جہاں جانا چاہو جا سکتی ہو میں جانتا ہوں میں نے تمھارے ساتھ غلط کیا اور نا میں تم سے معافی مانگو گا بس یہی کہوں گا اگر یہاں رہو گی تو محفوظ رہو گی ورنہ تمھارا باپ بھائی تمہیں مار ڈالے گا۔
اور باہر ڈوپٹے کے بغیر مت آنا میں یہاں اکیلا نہیں ہوتا میرے دو عدد بھائی بھی یہی پر ہوتے ہیں نائل نے ڈوپٹے کے بغیر کھڑی سیرت کو دیکھتے کہا جس کا دھیان اب اپنی طرف گیا تھا۔نائل نے پھر ایک نظر بھی اس پر نہیں ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔
ازکی نے صرف دوستوں کے کہنے پر حمدان سہگل کو چھیڑنے کے لیے بیوی کی فکر نہ ہونے کا شکوہ کیا تھا، مگر اسے کیا خبر تھی کہ ایس پی حمدان اس بات کو دل پر لے بیٹھے گا۔ رات کے اندھیرے میں اچانک اپنے کمرے میں حمدان کو دیکھ کر ازکی کے اوسان خطا ہو گئے، جبکہ وہ اپنی بیوی کو منانے کے لیے اتنی دور آنے پر بھی بالکل شرمندہ نہیں تھا۔ ازکی نے اسے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی تو حمدان نے الٹا اس کے چاروں بھائیوں کو بلا کر لانے کا چیلنج دے دیا۔ اب ایک طرف ازکی کے غصے کی انتہا تھی اور دوسری طرف حمدان کی بےفکری، جس نے اس مذاق کو حقیقت میں بدلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
یہ کہانی محبت، دھوکے اور جدائی کے بعد ہونے والی ایک ایسی ملاقات کے گرد گھومتی ہے جو ارمغان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔ آرزو اور ارمغان نے خاندان کی مخالفت کے باوجود شادی کی، مگر ارمغان کی ماں نے سازش کرکے آرزو کو جعلی طلاق کے کاغذات دے دیے، جس کے بعد وہ دل شکستہ ہو کر شاہ مینشن چھوڑ گئی۔ ارمغان کو حقیقت سے بے خبر رکھ کر نتائشہ سے شادی کروا دی گئی، لیکن برسوں بعد ہسپتال میں اچانک آرزو کی آواز سن کر اس کے قدم وہیں رک گئے۔ آرزو کی پکار نے اس کے دل میں دفن تمام جذبات دوبارہ زندہ کر دیے اور وہ نتائشہ کو وہیں چھوڑ کر لیبر روم کی طرف بھاگ گیا۔ جب سالوں بعد دونوں ایک دوسرے کے سامنے آئے تو ان کے درمیان موجود خاموشی میں بے شمار سوالات چھپے ہوئے تھے، جبکہ ایک ننھے وجود کی آمد نے ان کی کہانی کو ایک نئے اور حیران کن موڑ پر لا کھڑا کیا۔
ظاہری شکل و صورت سے بڑھ کر انسان کے دل اور کردار کو اہمیت دینے کی خوبصورت کہانی۔ زیرک خان کی تنہائی، لوگوں کی نفرت اور اس کے منفرد حلیے کی وجہ سے برداشت کیے گئے طعنوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ مہر گل کا اسے دوسروں سے مختلف نہیں بلکہ ایک عام انسان سمجھنا اس کی زندگی میں امید کی پہلی کرن بنتا ہے۔ یہ کہانی قبولیت، انسانیت اور بے غرض محبت کا پیغام دیتی ہے، جہاں ایک شخص کی محبت اور سمجھ برسوں کی تنہائی کو ختم کرنے کا سبب بنتی ہے۔
ایک معصوم اور محنتی لڑکی کی جذباتی زندگی کی کہانی، جہاں ایک معمولی سی غلطی اسے لوگوں کی سخت باتوں کا سامنا کرواتی ہے۔ ایک اجنبی کا اس کی عزت کے لیے کھڑا ہونا اس کی زندگی میں ایک خوبصورت تبدیلی کی شروعات بنتا ہے۔ ستارہ کی سادگی، خاموش آنسو اور اظمیر کی بے لوث حفاظت دل کو چھو لینے والے جذبات پیدا کرتی ہے۔ آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی قربت، اعتماد اور خاموش محبت کہانی کو مزید خوبصورت بناتی ہے، جہاں ایک ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا ملتا ہے اور خوشی ایک ایسے شخص کے روپ میں سامنے آتی ہے جس کا ستارہ نے شاید کبھی انتظار بھی نہیں کیا تھا۔
ایک ایسی محبت کی کہانی جہاں رشتہ محبت سے نہیں بلکہ تلخی اور غلط فہمیوں سے شروع ہوتا ہے۔ سخت مزاج شوہر، چھپی ہوئی شادی اور یونیورسٹی میں بے عزتی کے درمیان ایک معصوم لڑکی کی جذباتی آزمائش دکھائی گئی ہے۔ مسلسل ذہنی دباؤ اور بے آرامی کے باعث ہونے والا صدمہ کہانی کو ایک انتہائی دردناک موڑ دیتا ہے۔ ماہم کی ٹوٹی ہوئی امیدیں، حمدان کا غصہ اور بعد میں اپنی غلطیوں کا احساس اس داستان کو مزید جذباتی بناتا ہے۔ محبت، پچھتاوے، قربانی اور خود احتسابی کے ساتھ یہ کہانی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ محبت میں بدل سکتا ہے؟
محبت میں ملنے والی بے وفائی اور دل توڑ دینے والا صدمہ، اولاد کی خواہش میں رشتوں کی قربانی، ایک عورت کی عزت اور خودداری کی جنگ، شوہر کی دوسری شادی اور سسرال کے دباؤ کی تلخ حقیقت، تنہائی میں ماں بننے والی سونیا کی درد بھری زندگی، محبت کے نام پر کیے گئے وعدوں کا ٹوٹ جانا، جدائی کے بعد اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کی جدوجہد، اور ایسے فیصلے جو رشتوں کی پوری دنیا بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
محبت، جذبات اور رشتوں کی خوبصورت کہانی
غلط فہمیوں اور جذباتی کشمکش کی عکاسی
محبت میں قربانی اور وفاداری کا امتحان
ہیرو کی محبت، حسد اور پوزیسیو نیس
خاندانی دباؤ اور رشتوں کے پیچیدہ مسائل
خود احتسابی اور حقیقت کو سمجھنے کا سفر
سچی محبت کی طاقت اور رشتوں کی اہمیت
اعتبار، محبت اور دھوکے کی تلخ حقیقت
حبا حسیب کی جذباتی اور روحانی آزمائش
حرام تعلق کے انجام اور خود احتسابی کا پیغام
محبت کے نام پر ہونے والی تذلیل اور دھوکے کی عکاسی
ایمان، ندامت اور صحیح راستے کی طرف واپسی
ایک ایسا سفر جو محبت سے شروع ہو کر حقیقت اور خود شناسی تک پہنچتا ہے
پانچ سال کی جدائی کے بعد دوبارہ ملنے والے دو ایسے دل، جن کے درمیان محبت بھی ہے اور دشمنی بھی۔
خاندانوں کی دشمنی، بدلے کی آگ اور ایک ایسا رشتہ جو نفرت کے باوجود دل سے ختم نہیں ہو پاتا۔
کیا حداد کی نفرت کے پیچھے چھپی محبت عترت کو کبھی نظر آ سکے گی؟
شادی کے بعد دشمنوں کی سازشیں بھی ان کی محبت میں کوئی دراڑ نہیں ڈال پاتیں۔
ہر مشکل اور ہر سازش کے باوجود دونوں کا رشتہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
برسوں بعد ملنے والی محبت، جس کے درمیان غلط فہمیاں نہیں بلکہ حالات کی دیوار کھڑی تھی۔
ایک طرف پرانا عشق، دوسری طرف اپنی عزت، تعلیم اور مستقبل کو بچانے کی جنگ۔
کیا حورین اپنے ماضی کی محبت کو دوبارہ موقع دے پائے گی یا اپنے مستقبل کو چن لے گی؟