Rah E Sitamgar By Zemal Abbas Episode 1 to 16 Novel20684
Rah E Sitamgar By Zemal Abbas Episode 1 to 16
Forced Marriage | Rude Hero | Haveli Base | Revenge base |Fantasy base | Romantic Novel
“عجیب و غریب قسم کے وسوسوں کے باعث کچھ نئے ماحول، نئی جگہ کا احساس، دماغ پر اس حد تک حاوی رہا کہ وہ پوری رات کچی نیند کے زیر اثر بس یونہی آنکھیں موندے پڑی رہی۔ پوری رات ایک ہی زاویے پر پڑے پڑے اس کی کمر بھی اکڑ گئی، لیکن اس شخص کی جانب رخ موڑ کر سونے کی وہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی ہمت یکجا نہیں کر پائی۔ شاید سونے سے قبل اس کی ذومعنی قسم کی گفتگو نے اسے اسٹنٹ کر دیا تھا۔ اس لیے اپنی طرف سے حفاظتی اقدامات کی یہ ایک چھوٹی سی کوشش تھی، جو وہ کر سکتی تھی۔ اس کے علاؤہ چارہ بھی کوئی نہ تھا۔
“اس کے اندر اس خیال نے عجب بے کلی مچا رکھی تھی کہ وہ آخر اس حویلی میں سروائیو کیسے کر سکے گی، وہ بھی اس صورت میں جب اسے یہاں کوئی پسند ہی نہیں کرتا تھا۔ اس زہر آلود ماحول میں کیا وہ اپنے لیے یہاں بسنے والے افراد کے دلوں میں گنجائش پیدا کر سکے گی۔۔۔۔؟ اس سوچ نے ہی سرے سے اس کے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔
“باتھ لے کر جب وہ نمازِ فجر کے لیے جائے نماز پر بیٹھی تو جیسے رگ و پے میں سکون کی ایک تازہ ترین لہر سرایت کر گئی۔ نماز ادا کر کے اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو دماغ گویا بلینک ہو گیا۔ کچھ دیر خالی ذہن کے ساتھ بیٹھے بیٹھے بالآخر اس کے لبوں نے بے آواز حرکت کی۔
“یا اللّٰہ، اگر تو نے میرا مقدر اس شخص کے ساتھ جوڑا ہے تو پھر میرے لیے آسانیوں کی راہیں ہموار کر، مجھے اس رشتے کو سمجھنے، اور قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ یہاں رہنے والوں کے دلوں میں میرے لیے نرمی پیدا کر دے۔ آمین۔۔۔۔” چہرے پر ہاتھ پھیر کر وہ جائے نماز سے اٹھی اور کاؤچ پر جا بیٹھی۔ اس کی نظر بھٹکتی ہوئی بیڈ پر سوئے اس بھرپور قد و قامت سمیت وجیہہ چہرے پر دنیا جہاں کی بے خبری لیے سوئے شخص پر پڑی تو وہ لاشعوری طور پر چند پل کیلئے وہیں ٹھہر گئی۔
“اس بے خبری کے عالم میں، اس رف ٹف سے حلیے میں بھی وہ کسی کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے اس وقت ملیحہ یوسف ارد گرد سے بے نیاز اس پر نگاہیں ٹکائے ہوئی تھی، یہ الگ بات کہ اس کی ذہنی رو جذبات کے ملے جلے سنگم میں الجھی ہوئی تھی۔
“تم تعریف کر سکتی ہو میری، اس پر ہرگز کوئی ممانعت نہیں ہے؛” یکایک کمرے کی خاموش فضا میں یلماز سکندر کی بھاری آواز گونجی تو وہ اپنی جگہ حق دق سی رہ گئی۔ اس کی آنکھیں ہنوز بند تھیں، پھر اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ اسے ہی دیکھ رہی ہے۔۔۔۔۔” ملیحہ ایک پل کو چکرا سی گئی۔
“یا اللّٰہ، یہ شخص کوئی اسم وغیرہ جانتا ہے کیا۔۔۔؟ یا پھر نیند کی حالت میں بھی اس کا ذہن اس حد تک بیدار ہوتا ہے۔۔۔” اس سے پہلے کہ وہ کھڑی ہوتی یلماز نے آنکھیں کھول کر بڑی ہی گہری نگاہوں سے اس کے ہونق چہرے کو دیکھا تو وہ ہڑبڑا کر کھڑی ہو گئی۔
“تم چاہو تو اسی پوزیشن میں بیٹھ کر مجھے دیکھ سکتی ہو، میں پورے دن اسی طرح آنکھیں بند کر کے لیٹنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔” اس نے لو دیتی آنکھوں سے اسے سرتاپا زومعنی انداز میں دیکھا۔
ایویں۔۔۔” ملیحہ بے ساختہ نگاہیں چرا کر در و دیوار دیکھنے لگی۔ دونوں عارض نجانے کیوں ایک انجانے سے احساس سے جیسے دہکنے لگے۔ یلماز نے امڈتی مسکان ضبط کی، اور بڑی توجہ سے آنکھوں کی پتلیاں سکوڑتے ہوئے اس کا گریز پا انداز نوٹ کیا، جو اس پل شاید خود سے بھی نگاہیں چرائے ہوئے تھی۔
“آج تو سنڈے ہے، پھر تم اتنی جلدی کیوں اٹھ گئے؟ کیا تم جلد اٹھنے کے عادی ہو؛؟ اپنا مائنڈ ڈائیورٹ کرنے کیلئے اسے کچھ تو بولنا تھا، سو جلدی سے سوال کر بیٹھی۔ یلماز نے ابرو اچکا کر لب کاٹتی ملیحہ کو دیکھا۔
“یا اللّٰہ، میں ایسے سوال کیوں کر رہی ہوں۔ نجانے کیا سوچے گا یہ میرے بارے میں، یقیناً یہی نا کہ اس کی ذات میں کس قدر دلچسپی لے رہی ہوں میں، اففففف۔۔۔۔۔” وہ اس کے یوں دیکھنے پر خفت کا شکار ہونے لگی۔
وہ کمفرٹر پرے کر کے بیڈ سے اتر کر نپے تلے قدموں سے اس کی جانب بڑھا تو ملیحہ غیر محسوس انداز میں دو قدم پیچھے ہوئی، اسی کوشش میں وہ پشت پر موجود چئیر پر گر سی گئی۔
“اس شخص کی آنچ دیتی آنکھوں سے نکلتی منہ زور لپک اسے اپنے آر پار ہوتی محسوس ہونے لگی۔
“ا۔۔۔ایسے ک۔۔کیا دیکھ رہے ہو؛؟ اسے چئیر کے بازو پر دونوں ہتھیلیاں ٹکا کر خود پر جھکتا پا کر اس کے حلق سے پھنسی پھنسی آواز نکلی۔ اس کے لیے اس لمحے یلماز سکندر سے نگاہیں ملانا محال ہو گیا۔
“دیکھ نہیں رہا، بلکہ تلاش کر رہا ہوں تمہارے نخروں کو، وہ مجھے کل سے مل کر نہیں دے رہے؛”
Maybe you forgot to put them somewhere, honey.
اس نے اس کا رخسار ہولے سے چھو کر ایک آنکھ ونک کی۔ ملیحہ کے دونوں عارض بری طرح سے تپ اٹھے۔ وہ بے اختیار اسے پیچھے دھکیلتی اس سے چند قدم کے فاصلے پر جا کھڑی ہوئی۔
کیا مطلب۔۔۔۔؟ غیر محسوس انداز میں وہ دونوں رخسار کو ہاتھ لگاتی ایک قدم اور پیچھے سرکی۔
ریلیکس، کھا نہیں جاؤں گا تمہیں۔۔۔” اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑتے دیکھ کر وہ قدرے متبسم لہجے بولا تو وہ خواہ مخواہ انگلیاں چٹخانے لگی۔
(ہونہہ انداز تو تمہارے ایسے ہی ہیں) وہ دل ہی دل میں سوچ کر رہ گئی۔
“تم نے نماز کیلئے مجھے کیوں نہیں اٹھایا؛”؟ یلماز نے وارڈروب کھولتے ہوئے سوال کیا۔
“تم نماز پڑھتے ہو؛” ملیحہ نے چونک کر مختصراً پوچھا تو وہ ہولے سے سر کو جنبش دے کر دھیرے سے ہنس پڑا۔
“سویٹ ہارٹ، تم نے ہر قسم کی خامیوں کے ساتھ ساتھ مجھے کافروں کی لسٹ میں بھی شامل کر لیا ہے کیا؟ بائی دا وے، مذاق اپنی جگہ، بٹ یس، کبھی کبھی سجدے میں سر میں بھی مار لیتا ہوں۔ اب تمہیں دیکھا ہے نماز ادا کرتے ہوئے تو کرنی ہی پڑے گی، کہ کہیں سچ میں کافروں والی فیلنگ نہ آ جائے۔۔” اس کی بات پر ملیحہ پزل سی ہو گئی۔
“نہیں، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ ٹھیک ہے، بس تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے تم نماز پڑھ لو، ورنہ قضا ہو جائے گی۔۔۔” وہ کھڑکی طرف بڑھی اور آہستگی سے کہا۔ وہ اسے کیا بتاتی کہ اس کا امیج کسی آئینے کی طرح اس کی نظر میں صاف شفاف ہو چکا ہے۔ اگر عائشہ اسے ساری حقیقت سے آگاہ نہ کرتی تو وہ اپنی بے خبری کے ہاتھوں نجانے کب تک بدگمانیوں کا شکار رہتی، اسے اپنے محسوسات سمجھ نہیں آ رہے تھے کہ وہ سچائی جاننے کے بعد اتنی خاموشی سے فارم ہاؤس سے اٹھ کر یہاں کیوں چلی آئی تھی۔۔۔؟
کیا وہ اپنے لگائے گئے ان تمام تر الزامات کا ایک چھوٹا سا ازالہ چاہ رہی تھی۔۔۔؟ لیکن دیکھا جائے تو اس سب میں قصوروار وہ بھی نہیں تھی۔ اس نے حالات کے مطابق ہی اپنا ردعمل ظاہر کیا تھا۔ اس نے قصداً یلماز سکندر کو اپنے نشانے پر نہیں لیا تھا، بلکہ اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ پھر یہاں اس حویلی میں اتنی خاموشی سے چلے آنے کا سبب کیا تھا۔۔۔۔۔؟ کیا اس کے دل میں اس شخص کے لیے گنجائش۔۔۔۔۔۔؟؟ بس۔۔۔۔ اس سے آگے وہ سوچنا ہی نہیں چاہ رہی تھی، سو دانستہ وہیں سے واپس پلٹ آئی، مگر اس کا ذہن ایک بار پھر الجھنے لگا۔۔۔
جبھی یلماز فریش ہو کر واشروم سے نکلا، اور جائے نماز بچھا کر جب اس نے نیت باندھی، تو ملیحہ بغور اس کو خشوع و خضوع سے نماز میں محو دیکھتی کہیں دور بہت دور نکل گئی۔ نجانے کیوں آنکھوں کو یہ منظر بہت ہی بے ریا، بہت ہی منفرد، اور ٹھنڈک بخش دینے والا تاثر دے رہا تھا۔ اور جب نماز ادا کر کے اس نے دعائیہ انداز میں ہاتھ پھیلائے تو وہ ٹکٹکی باندھے جہاں کی تہاں بیٹھی رہ گئی۔ یہ ہرگز “وہ” یلماز سکندر نہ تھا، جس کیلئے اس کے دل میں سوائے حقارت کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ تو کوئی اور شخص تھا، جس کی ذات اس پل اس پر بری طرح سے اثر انداز ہونے لگی تھی۔
“وہ اسے دیکھنے میں اس حد تک محو تھی کہ پتہ ہی نہیں چلا کب یلماز جائے نماز فولڈ کر کے اس کی جگہ رکھتا ملیحہ کی طرف بڑھا تھا۔
“اتنے غور سے دیکھنے کی وجہ؟ کہیں ہم سے محبت تو نہیں ہو رہی ڈئیر وائفی۔۔۔؟ ایک ہاتھ کھڑکی پر ٹکا کر اس نے جھک کر مکہتی سرگوشی کی تو وہ اپنی جگہ دھک سے رہ گئی۔ کئی پل تک تو مائنڈ پروسس کرنے کی حالت میں ہی نہیں رہا۔
“ممم۔۔۔۔محبت۔۔۔ن۔۔نہیں تو۔۔۔۔یہ کیا فضول بات کہہ رہے ہو۔۔۔؟ چند ثانیے کے بعد اس نے اس کے سینے پر ہاتھ کا ہلکا سا دباؤ ڈال کر اسے پیچھے ہٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہکلا کر کہا۔
“سوچ لو، سوچنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے۔۔۔” اس کی کنپٹی پر اپنا سلگتا لمس چھوڑ کر وہ اس کی پھیلی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
“یا اللّٰہ، یہ سب کیا ہے۔۔؟ کیا ہو رہا ہے مجھے۔۔۔۔افففف، کتنی عجیب و غریب حرکتیں سرزد ہو رہی ہیں مجھ سے، یہ کیا سوچے گا میرے بارے میں کہ کیسے ندیدوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی میں۔۔۔۔” .

Download link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕