Dar Arzoo e Mehr Novel 21027

Romantic | Arranged Marriage | Unwanted Wife | One Sided Love | Poor Heroine | Emotional | Husband Wife | After Marriage | Childhood Trauma | Emotional Neglect | Family Drama | Poverty Based | Relationship Drama | Contemporary Urdu Novel

Dar Arzoo e Mehr Unwanted Wife Arranged Marriage Urdu Novel

Dar Arzoo e Mehr aik emotional arranged marriage Urdu novel hai jisme bachpan se mohabbat ke liye tarasne wali Tabaan shadi ke baad Muaz ke dil mein apni jagah banane ki koshish karti hai.

سرد صوفے پر بیٹھی تاباں کتنی دیر ساکت نظروں سے اسے دیکھتی رہی نہ جانے کب اسے دیکھتے دیکھتے اس کی انکھوں میں پانی بھر ایا اور پھر وہ اواز دباتے بری طرح رو پڑی اسے لگا تھا وہ معاز کے دل میں کچھ جگہ بنا چکی ہے مگر وہ صرف اچھا انسان تھا اسے پسند نہیں کرتا تھا یہ حقیقت اس کے دل کو کچوکے لگا رہی تھی کہ وہ یہاں بھی ان چاہی ہے وہ غریب گھر میں پیدا ہوئی تھی پانچ بہنوں کے بعد سب سے اخری اولاد ان چاہی اولاد جس کا پیدا ہونا کسی کو اچھا نہیں لگا تھا افراد بڑھنے کے ساتھ ساتھ غربت بھی بڑھتی جا رہی تھی تاباں ان بچوں میں سے تھی جس کی دنیا میں انے کی خبر سننے سے لے کر پیدا ہونے تک مرنے کی دعائیں کرتے رہے مگر اسے دنیا میں انا تھا تو اگئی اور کم دودھ ملنے کے باوجود جی گئی کم خوراک ملی توجہ نہیں دی گئی ایک طرف پڑی رہ جاتی تھی مگر وہ نہیں مری تھی بڑی ہونے لگی ان کے گھر میں کھانا خیرات کی طرح سب کو ملتا تھا کبھی بالکل نہیں ہوتا تھا کبھی ملتا تھا تو اتنا کم کہ پیٹ نہیں بھرتا تھا اس سے بڑی بہن اسی بھوک افلاس میں بیمار پڑنے لگی بستر پر پڑے پڑے ہڈیوں کا ڈھانچا بنتی رہی شاید کوئی جان لیوا بیماری لگی تھی لیکن نہ چیک کروانے کے پیسے تھے نا علاج کے وہ خالی نظروں سے بوسیدہ کمرے کی چھت کو تکتی رہتی تھی اسے کھانا زیادہ دیا جانے لگا مگر صحت بحال نہیں ہو رہی تھی وہ ایک معمول کا دن تھا باپ کی دیہاڑی نہیں لگی تو ایک پورا دن سب کو بھوکا رہنا پڑا اگلے روز تھوڑا سا دودھ گھر ایا اور ان کے باپ نے یقین دلایا رات آٹا وغیرہ بھی ا جائے گا تاباں ماں سے ضد کر کے دودھ مانگنے لگی ماں نے تھک کر وہ تھوڑا سا دودھ اسی کو دے دیا اس روز شام کو اٹا انے سے پہلے اس کی بیمار بہن مر گئی مزے سے اپنی زندگی جیتے کھاتے پیتے محلے والوں کو تب یقین ایا کہ وہ غریب ہیں اور فاقے کرتے ہیں اس دن کے بعد سے محلے والے مدد کرنے لگے ان کی ماں گھروں میں کام کر کے کھانا لانے لگی گھر میں فاقے کم ہو گئے لیکن تاباں کے لیے ماں بہنوں کے دل میں گرہ اسی دن پڑ گئی تھی جس دن اس کی بہن مری تھی نہ وہ پیدا ہوتی نہ اس کی ضد پر دودھ اسے ملتا اور نہ وہ بیمار پہن مرتی تاباں کی پیدائش بھی ان چاہی تھی جوان ہونے تک اس کی بہن کی موت پر وہ اپنے گھر میں مزید الگ تھگ کر دی گئی کوئی ظاہر نہیں کرتا تھا نہ منہ سے کہتا تھا مگر سب کی خاموشی اور اس سے دوری ظاہر کر دیتی تھی اس کی شادی ہونے لگی تو ماں نے پہلی بار مسکرا کر کہا وہ قسمت کی اچھی ہے سب سے اچھے گھر میں شادی ہو رہی ہے اور زیادہ عمر بڑی نہیں ہوئی اس کی بری بہت اچھی تھی تاریخ طے ہوتے ہی اس کے لیے سسرال سے روزانہ دو کلو دودھ انے لگا دادی عزت اور محبت سے بیاہ کر لے گئی تھی اسے لگا اپ ایک گھر مل رہا ہے جہاں اسے چاہا جا رہا تھا مگر وہ غلط تھی ان چاہی بہن اور اب ان چاہی بیوی بنی تھی معاز کے دل میں جگہ بنانے کے لیے محنت کرتی رہی تھی سلامی کے سارے پیسے لگا ڈالے تھے بالوں کا رنگ بدلہ اچھی کریم کے استعمال سے رنگت شفاف ہو گئی جلد نرم ہونے لگی بال سلکی ہونے لگے خود کو سجانے سوارنے لگی معاز کے سامنے رہنے کی کوشش کرتی تھی لیکن پھر بھی ان کے بستر الگ تھے معاز باقی گھر والوں کی طرح اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں نہیں کرتا تھا اس کے ساتھ فری نہیں ہوتا تھا اسے لگا ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن خالہ کی باتیں منہ پر طماچہ ثابت ہوئی تھی اتنی محنت کے بعد بھی وہ صرف اسے برداشت کر رہا تھا وہ پوری رات صوفے پر سمٹ کر بیٹھی روتی رہی معاز کو دیکھ کر دل ٹوٹنے لگتا تھا وہ اسے پسند کر بیٹھی تھی محبت کرنے لگی تھی وہ ہنستا تھا تو خوش ہو کر دیکھتی تھی ایک بار اسے پکار کر وہ سادہ بات بھی کر دیتا تھا تو تاباں پورا دن خوش رہتی تھی وہ اتنا پیارا انسان اتنا پیارا بولنے والا اتنی پیاری اواز والا اس کا ہو چکا تھا سارا دن چھپ چھپ کر اس کا نام لیتی اور شرماتی تھی اسے تو لگا اب وہ اسی کا ہی رہے گا لیکن یہ سن کر ہی اذیت ہونے لگی کہ وہ اس جیسی لڑکیوں کو پسند نہیں کرتا تھا وہ روتے روتے نڈھال ہو گئی تھی

 

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Open PDF in Google Drive

For more novels, please join our Fiction Studio Alliance WhatsApp channel.

Join WhatsApp Channel

 

Description — Urdu

در آرزوئے مہر ایک جذباتی اور ازدواجی رشتے پر مبنی اردو ناول ہے، جس کی کہانی تاباں نامی ایک ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو بچپن سے محبت، اپنائیت اور قبولیت کے لیے ترستی رہی ہے۔

پانچ بہنوں کے بعد پیدا ہونے والی تاباں ایک غریب گھر کی آخری اور ان چاہی اولاد تھی۔ غربت اس قدر شدید تھی کہ گھر میں کبھی کھانا انتہائی کم ہوتا اور کبھی پورا خاندان فاقے پر مجبور ہو جاتا۔ کم خوراک، کم توجہ اور اپنوں کی بےرخی کے باوجود تاباں زندگی سے جڑی رہی۔

اس کے بچپن کا سب سے گہرا زخم اس وقت وجود میں آتا ہے جب اس کی بیمار بہن دنیا سے چلی جاتی ہے۔ ایک روز گھر میں موجود تھوڑا سا دودھ تاباں کے ضد کرنے پر اسے دے دیا جاتا ہے اور اسی شام اس کی بیمار بہن کی موت ہو جاتی ہے۔ اگرچہ اس سانحے کی ذمہ دار تاباں نہیں تھی، مگر گھر والوں کے دلوں میں اس کے لیے پہلے سے موجود دوری مزید گہری ہو جاتی ہے۔

تاباں ایک ایسے ماحول میں جوان ہوتی ہے جہاں کوئی کھل کر اسے قصوروار نہیں کہتا، مگر اپنوں کی خاموشی اور بےرخی اسے ہمیشہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ وہ اس گھر میں مطلوب نہیں۔

پھر اس کی شادی معاز سے طے ہوتی ہے۔

پہلی مرتبہ تاباں کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید قسمت اس کے لیے بھی ایک ایسا گھر لے آئی ہے جہاں اسے عزت اور محبت ملے گی۔ سسرال سے ملنے والی توجہ اور عزت اس کے اندر ایک نئے مستقبل کی امید پیدا کرتی ہے۔

شادی کے بعد تاباں معاز کو پسند کرنے لگتی ہے۔ وہ اس کے قریب آنے، اس کی پسند بننے اور اس کے دل میں جگہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ اپنی ظاہری شخصیت تک بدلنے لگتی ہے، خود کو سنوارتی ہے اور معاز کی معمولی سی توجہ پر پورا دن خوش رہتی ہے۔

مگر دونوں کے درمیان فاصلہ قائم رہتا ہے۔ ان کے بستر الگ ہیں، معاز اس کے ساتھ اس طرح وقت نہیں گزارتا جس طرح تاباں چاہتی ہے، پھر بھی وہ اس امید سے وابستہ رہتی ہے کہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

یہ امید اس وقت ٹوٹنے لگتی ہے جب اسے احساس ہوتا ہے کہ معاز کا اچھا رویہ شاید محبت نہیں بلکہ صرف اس کی اچھی فطرت تھی۔

جو لڑکی ساری زندگی ایک ان چاہی بیٹی اور بہن ہونے کا دکھ اٹھاتی رہی، وہ اب خود کو ایک ان چاہی بیوی کے مقام پر کھڑا پاتی ہے۔

Summary — Urdu

در آرزوئے مہر تاباں کی کہانی ہے، جس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب دولت یا آسائش نہیں بلکہ کسی کا چاہا ہوا ہونا ہے۔

غربت میں پیدا ہونے والی تاباں اپنے ہی گھر میں محبت اور توجہ سے محروم رہتی ہے۔ بیمار بہن کی موت سے جڑا بچپن کا ایک واقعہ اسے خاندان سے مزید دور کر دیتا ہے اور وہ خاموشی سے یہ احساس لیے جوان ہوتی ہے کہ شاید اس کی موجودگی کبھی کسی کے لیے خوشی کا باعث نہیں رہی۔

شادی طے ہونے پر پہلی مرتبہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید زندگی بدلنے والی ہے۔ عزت سے سسرال پہنچنے والی تاباں معاز کو دل سے اپنا شوہر مان کر اس کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔

معاز کی معمولی سی بات، ایک مسکراہٹ اور تھوڑی سی توجہ بھی اس کے لیے خوشی کا سبب بن جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اسے پسند کرتے کرتے محبت کرنے لگتی ہے۔

مگر جب اسے احساس ہوتا ہے کہ معاز شاید اسے چاہتا ہی نہیں اور صرف اپنی اچھی طبیعت کی وجہ سے اس کے ساتھ مناسب سلوک کرتا ہے تو تاباں کے لیے برسوں پرانا زخم پھر تازہ ہو جاتا ہے۔

کیا ساری زندگی اپنائیت کے لیے ترسنے والی تاباں اپنے شوہر کے دل میں کبھی اپنی جگہ بنا سکے گی؟ یا ایک ان چاہی بیٹی کی طرح اسے ایک ان چاہی بیوی بن

کر بھی محبت کی آرزو میں جینا ہوگا؟

Dar Arzoo e Mehr Complete Novel, Tabaan Muaz Novel, Unwanted Wife Urdu Novel, Arranged Marriage Urdu Novel, One Sided Love Urdu Novel, Poor Heroine Urdu Novel, Emotional Urdu Novel, Husband Wife Urdu Novel, After Marriage Urdu Novel, Childhood Trauma Urdu Novel, Emotional Neglect Urdu Novel, Family Drama Urdu Novel, Poverty Based Urdu Novel, Relationship Drama Urdu Novel, Romantic Urdu Novel, Pakistani Urdu Novel, Complete Urdu Novel, Read Urdu Novels Online

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *