Baazi e Khatar Novel21048 Urdu novel cover
484.6kViews
#1028Ranking
CompleteStory status
NOVELISTAN · URDU NOVELS

Baazi e Khatar Novel21048 — Novelistan

By Novelistan

Rate this novel

ایزل فاطمہ خان کے لیے اجنبی نمبروں پر فون کرنا محض ایک شرارت تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص کو وہ مذاق میں اس کے خفیہ جرائم بے نقاب کرنے کی دھمکی دے رہی ہے، وہ حقیقت میں شہر کا انتہائی خطرناک گینگسٹر ریحان شاہ ہے۔ ایزل کی باتوں نے ریحان کے ذہن میں شکوک پیدا کر دیے اور اس نے لڑکی کی مکمل معلومات حاصل کروا لیں۔ اسی شام موسلادھار بارش میں جب ایزل کی اسکوٹی سنسان سڑک پر خراب ہوئی تو دو اجنبی آدمیوں نے اسے زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔ اب وہ اس شخص کی گرفت میں تھی جسے چند گھنٹے پہلے مذاق میں دھمکایا تھا۔ لیکن اصل خطرہ ابھی باقی تھا۔ آخر ریحان شاہ اس معصوم لڑکی سے کیا جاننا چاہتا تھا، اور فارم ہاؤس پر اچانک ہونے والی فائرنگ کس نئی مصیبت کا آغاز تھی؟

Sneak

"د۔۔دیکھو میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا۔ میں تو تمہارے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔" ایزل نے اپنے سامنے کھڑے ریحان شاہ کو کہا تھا۔ وہ بہت بڑا گینگسٹر تھا۔ ایزل نے اپنی دوستوں کے کہنے پر رانگ نمبر پر کال کی تھی اور اسے جھوٹ بولا تھا کہ تمہارے سارے کالے کرتوت مجھے پتہ چل گئے ہیں یہ سمجھ کر کہ وہ کوئی عام سا آدمی ہو گا پر نہیں جانتی تھی جس کو اس نے فون کیا تھا وہ واقعی کالے کاموں کا بے تاج بادشاہ تھا جس کے آگے سیاسی لیڈر بھی سر جھکاتے تھے ۔ ریحان شاہ نے اگلے ہی دن اسے اٹھوا لیا تھا۔ " تمہیں کیا لگتا ہے کہ تمہارے جھوٹ پر یقین کروں گا میں؟ " ریحان شاہ غصے سے بولتا اس کی طرف بڑھا تھا کہ تبھی اچانک فارم ہاؤس پر فائرنگ شروع ہوئی اور ایزل خوف سے ہوش کھوتی ریحان شاہ کی بانہوں میں۔۔۔
"اوہ خدا کے لیے اب دوبارہ کال مت کرنا" ایزل نے فون کان سے ہٹاتے ہوئے جھنجھلا کر کہا اور کال کاٹ دی اس کے ساتھ بیٹھی ماہ نور، حوریہ اور ایمان زور سے ہنس پڑیں۔
"پھر وہی نمبر تھا" ماہ نور نے پوچھا تو ایزل نے منہ بنایا۔
"ہاں صبح سے پانچویں بار کال کر چکا ہے"
"کیا کہتا ہے" حوریہ نے دلچسپی سے پوچھا۔
"ہیلو۔۔ آپ کون ہیں ،میں کون ہوں، یہ کون ہیں" ایزل نے لڑکے کی نقل اتاری اور یہ کہتے ہی وہ خود بھی ہنس پڑی وہ چاروں  یونیورسٹی کے لان میں بیٹھی تھیں کلاس ختم ہو چکی تھی اور اب ان کے پاس فری پیریڈ تھا کہ اچانک ایزل کا فون پھر بج اٹھا جس پر سب کی نظریں فون پر جم گئیں۔
"اٹھاؤ۔۔ اٹھاؤ" ایمان نے شرارت سے کہا۔
"جی"ایزل نے آنکھیں گھماتے کال رسیو کر لی دوسری طرف سے فوراً آواز آئی۔
"شکر ہے آپ نے اٹھا لیا میں صبح سے۔۔"
"بھائی صاحب اپنی زبان کا اسٹینڈ نیچے کریں سمجھے" اس نے بیچ میں ٹوکا باقی سب اس کے طنز پہ ایک دوسرے کودیکھ مسکرا گئیں۔
"اگر آپ کو اتنا ہی شوق ہے بات کرنے کا توشادی کر لیں فضول میں تنگ کر رہے ہیں" وہ بھی پھر ایزل فاطمہ تھی
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی پھر وہ لڑکا بولا۔
"شادی"
"ہاں سات سالے قسمت والوں کو ملتے ہیں۔۔" اس کے جھوٹ پہ لان میں بیٹھی سب دوستوں کا قہقہہ نکل گیا جبکہ کالر نے فوراً کال کاٹ دی۔
"بے چارے کو ہارٹ اٹیک آ گیا ہوگا" ماہ نور ہنستے ہوئے بولی۔
"اور کیا صبح سے مجھے تنگ کر رہا ہے ایک ویسے ہی آج بڑا بور دن ہے اوپر سے یہ خبیث لڑکے"
اس نے گھاس پر لیٹتے ہوئے کہا۔
"تو پھر آج کچھ نیا ہونا چاہیے"
ایمان نے فوراً کہا تو چند لمحے سب خاموش رہیں پھر اچانک ماہ نور کی آنکھوں میں شرارت چمکی۔
"میرے پاس آئیڈیا ہے"
"بتاؤ"سب دلچسپی لیتی ہیں۔
"ہم بھی لوگوں کو غلط نمبر ملا کر تنگ کرتے ہیں ایز آ فن"اس کے مشورے پہ چند سیکنڈ خاموشی رہی پھر ایزل زور سے ہنس پڑی۔
"پاگل ہو گئی ہو"
"کیوں مزہ آئے گا یار" وہ منہ بناتی ہے اور چاروں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگیں پھر اگلے ہی لمحے سب کے چہروں پر ایک جیسی شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔
"میں تیار ہوں" حوریہ بولی۔
"تم لوگ مجھے پھنسا دو گی" ایزل نے لب کاٹتے کہا۔
"نہیں پھنسائیں گے یار اور ہر کوئی ایک ایک کال کرے گا اپنے اپنے نمبر سے سو ڈونٹ وری ہم کسی ایک کا نمبر یوز نہیں کریں گے"ایمان نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی تو ایزل نے ہار مان لی۔
"چلو ٹھیک ہے آج پنگا لے کر دیکھتے ہیں" اس کے ماننے پہ
سب خوشی سے چیخ اٹھیں پھر ماہ نور نے جلدی سے ایک رینڈم نمبر ڈائل کیا اور فون سپیکر پر لگا دیا چند سیکنڈ بعد
کال اٹھ گئی۔
"ہیلو" ایک مردانہ آواز سنائی دی تو ماہ نور نے فوراً سنجیدہ لہجہ اپنایا۔
"سر مبارک ہو"
"کس بات کی" سنجیدہ آواز۔۔۔
"آپ کی لاٹری نکل آئی ہے آپ کو ایک لڑکی پسند کرنے لگی ہے"وہ ہنسیں چند لمحے خاموشی رہی پھر دوسری طرف سے غصے میں آواز آئی۔
"بکواس بند کرو"اور کال کٹ گئی جس پہ چاروں دوست قہقہے مار مار کر ہنسنے لگیں پھر
دوسری کال ملائی گئی اس بار ایک بوڑھے آدمی نے فون اٹھایا جس پہ ایمان نے فوراً فون کاٹ دیا۔
"نہیں نہیں انکل کو تنگ نہیں کرنا" وہ ہلکے سے بولی تو سب نے اتفاق کیا پھر تیسری کال۔
"ہیلو کیا آپ کا کتا بھاگ گیا ہے" حوریہ نے بےتکی سی بات کی۔
"جی ہم نے اسے لاہور میں پکڑا ہے" وہ ہنسی اور دوسری طرف سے گالی سنائی دیتی کال کٹ گئی اب تو سب ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھیں۔
"اب تمہاری باری ہے اور اس بار کوئی ڈرانے والا ڈرامہ کرنا ہے" ایمان نے اعلان کیا تو ایزل نے مسکراتے ہوئے اپنا فون پکڑ لیا
دوسری طرف رنگ جا رہی تھی
مگر انہیں نہیں معلوم تھا کہ اس بار جو نمبر ملا تھا وہ کسی عام شخص کا نہیں تھا بلکہ شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانی فیکٹری کے اندر درجنوں مسلح آدمی موجود تھے ہال کے درمیان ایک لمبی میز تھی اور اس میز کے سرے پر بیٹھا تھا ریحان حیدر شہر کا وہ نام جس سے بڑے بڑے نام بھی خوف کھاتے تھے اس وقت وہ اپنے آدمیوں کے ساتھ ایک انتہائی خفیہ کنسائنمنٹ پر بات کر رہا تھا کمرے میں مکمل خاموشی تھی تبھی اس کا فون بج اٹھا اس نے سکرین کی طرف دیکھا تو ان ناؤن نمبر تھا اس نے چند لمحے فون کو دیکھا پھر کال اٹھا لی۔
"ہیلو" ادھر ایزل نے دوستوں کو آنکھ ماری جو سب اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
"ہیلو مسٹر غنڈے"وہ سنجیدہ انداز میں بولی تو ریحان کا ماتھا ہلکا سا سکڑا۔
"کون"
"یہ چھوڑیں کیونکہ آپ کی تمام خفیہ معلومات ہمارے پاس پہنچ چکی ہیں۔۔"
"کون سی معلومات" ریحان کی آنکھیں سکڑ گئیں کمرے میں موجود سب لوگوں کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔
"آپ کا اگلا کنسائنمنٹ کہاں جا رہا ہے، کب پہنچے گا سب کچھ ہمارے پاس موجود ہے" ایزل نے بے خبری میں وہ جملہ کہہ دیا جو اگلے چند دنوں میں اس کی پوری زندگی بدلنے والا تھا اچانک ریحان اپنی کرسی سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تو کمرے کا ماحول بدل گیا کیونکہ اتفاق سے آج رات واقعی ایک خفیہ کنسائنمنٹ روانہ ہونا تھا اور اس کی خبر صرف چند لوگوں کو تھی۔
"تم کون ہو" اس بار اس کی آواز برف کی طرح ٹھنڈی تھی
لیکن ایزل اب بھی اسے مذاق سمجھ رہی تھی۔
"ہم وہ ہیں جن سے آپ بچ نہیں سکتے"وہ سب بمشکل ہنسی روک رہی تھیں۔
"اچھا اور تمہیں یہ معلومات کس نے دیں"وہ آہستہ سے بولا۔
"یہ آپ کا ہیڈک نہیں ہے ہمارے پاس آپ کے خلاف ثبوت ہیں اگر آپ نے تعاون نہ کیا تو ہم سب کچھ انٹرنیٹ پر ڈال دیں گے"
چند لمحے مکمل خاموشی رہی
اتنی خاموشی کہ ایزل کو خود عجیب لگا پھر ریحان نے نہایت پرسکون لہجے میں پوچھا۔
"تمہارا نام کیا ہے"
"کیوں ڈر گئے ہیں کیا"وہ ہنس دی۔
"بہت جلد پتہ چل جائے گا کہ کون ڈرتا ہے" یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی ادھر لان میں قہقہوں کا طوفان آ گیا۔
"اوہ خدا اس کی آواز سنی تھی کتنا سیریس ہو گیا تھا"
"لگتا ہے واقعی کوئی مافیا ڈان تھا" ایزل ہنستے ہنستے دوہری ہو گئی مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ ریحان شاہ خاموش بیٹھا فون کی سکرین کو دیکھ رہا تھا چند سیکنڈ بعد اس نے سر اٹھایا۔
"اس نمبر کی مکمل تفصیل چاہیے مجھے" کمرے میں موجود سب آدمی سیدھے ہو کر کھڑے ہو گئے آج رات ہونے والا کنسائنمنٹ کروڑوں کا تھا اس کے بارے میں صرف چند مخصوص لوگوں کو علم تھا ایسے میں ایک اجنبی لڑکی کا اچانک کال کر کے اسی چیز کا ذکر کرنا معمولی بات نہیں تھی۔
"اگر یہ پولیس کا جال ہے تو کوئی نہیں بچے گا" اس نے آہستہ سے کہا۔
"باس نمبر مل گیا" ایک آدمی نے چند منٹ بعد سر اٹھایا تو ریحان فوراً اس کی طرف مڑا۔
"نام ہے ایزل فاطمہ خان یونیورسٹی سٹوڈنٹ ہے مڈل کلاس فیملی ماں کی دوسری شادی ہے تین بہنیں ایک بھائی ہے یہ اس کی تصویر ہے"اسکرین پر اس کی تصویر ظاہر ہوئی جہاں مسکراتی ہوئی معصوم سی لڑکی تھی وہ بالکل ویسی نہیں تھی جیسی ریحان نے تصور کی تھی لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا تھا اس کی دنیا میں شکلیں دھوکہ دے سکتی تھیں۔
"لوکیشن"
"ابھی یونیورسٹی میں ہے" کمپیوٹر آپریٹر نرمی سے کہتا ہے
ریحان نے تصویر کو چند لمحے دیکھا پھر سرد لہجے میں بولا۔
"صبح ہونے سے پہلے یہ لڑکی میرے سامنے ہونی چاہیے" اس نے دوبارہ ایزل کی تصویر دیکھی تو ہونٹوں پر ہلکی سی خطرناک مسکراہٹ ابھری۔
"تمہاری آواز کے ساتھ تمہاری صورت بھی کافی دلچسپ ہے"وہ آہستہ سے بولا تھا جب کہ اس کے آدمی اس کے حکم پہ متحرک ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یار پلیزز مت جاؤ نا ابھی" ماہ نور نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
"شام کے ساتھ بج رہے ہیں ماما نے اگر دروازے پر کھڑے ہو کر استقبال کیا تو تم آ کے بچانا" ایزل نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا تو وہ ہنس پڑی وہ آج کمبائن اسٹڈی کے لیے آف ٹائم اس کے ساتھ اس کے گھر آئی تھی پڑھتے اور باتیں کرتے وقت کا پتا ہی نہیں چلا تھا لیکن نہ جانے کیوں بار بار اسے وہ عجیب سی کال یاد آ رہی تھی اس شخص کالہجہ اور انداز عام آدمیوں جیسا نہیں تھا۔
"کیا سوچ رہی ہو" ماہ نور نے پوچھا۔
"کچھ نہیں بس گھر جانا ہے" اس نے فوراً جواب دیا چند منٹ بعد وہ اس کے گھر والوں سے مل کر باہر نکل آئی جیسے ہی دروازہ کھولا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے تو دور کہیں گرج کی آواز سنائی دی۔
"واہ اب بارش بھی ہونے والی ہے" اس نے آسمان کی طرف دیکھتے اپنی اسکوٹی سٹارٹ کی اور سڑک پر آ گئی پہلے تو سب ٹھیک تھا ہلکی ہلکی بوندیں گر رہی تھیں اور سڑک بھی تقریباً خالی تھی وہ آہستہ آہستہ گنگناتی ہوئی جا رہی تھی اچانک  بارش تیز ہو گئی اور چند ہی لمحوں میں موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔
"کھررر" سکوٹی کو جھٹکا لگا اور انجن بند ہو گیا۔
"نہیں یار" ایزل تقریباً چیخ پڑتی
دوبارہ سٹارٹ کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن کچھ نہیں ہوا۔
"اسے بھی آج ہی خراب ہونا تھا" وہ جھنجھلا گئی چاروں طرف سنسان سڑک تھی بارش مسلسل بڑھتی جا رہی تھی اس لیے اس نے فون نکالا تو نیٹ ورک کمزور تھا۔
"زبردست۔۔ اور کچھ رہ گیا ہو تو وہ بھی کر لو"اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا اور اسکوٹی کو دھکا دے کر آگے بڑھنے لگی
پانی کپڑوں میں اتر چکا تھا، بال بکھرے کہ تبھی دور سے دو ہیڈ لائٹس نمودار ہوئیں کچھ ہی لمحوں میں ایک گاڑی اس سے چند قدم کے فاصلے پر رک گئیں جس پر ایزل چونک گئی اس کا دل ہلکا سا دھڑکا کیونکہ گاڑی سے دو آدمی باہر نکلے تھے۔
"جی"اس نے فوراً اسکوٹی کا ہینڈل مضبوطی سے پکڑ لیا لیکن
کوئی جواب نہیں آیا وہ آدمی سیدھے اس کی طرف بڑھتے رہے
اب پہلی بار اسے خطرہ محسوس ہوا۔
"آپ لوگ کون ہیں"ایزل ایک قدم پیچھے ہٹی تبھی ایک آدمی نے جیب سے موبائل نکالا تو اسکرین پر موجود تصویر بارش میں بھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
"یہی ہے" آدمی نے کہا تو دوسرے نے سر ہلایا جس پہ ایزل کا دل زور سے دھڑکا ساتھ ہی چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
"ر۔۔رکیں میں نے کچھ نہیں کیا" وہ گھبرا گئی لیکن کوئی جواب نہیں آیا اگلے ہی لمحے وہ مڑی اور پوری طاقت سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن صرف دو قدم ہی آگے ہوئی تھی کہ ایک مضبوط ہاتھ نے اس کی کلائی پکڑ لی۔
"چھوڑو مجھے۔۔ ہیلپ " وہ چلائی لیکن بارش کی گرج نے اس کی آواز نگل لی اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن دوسرے آدمی نے آگے بڑھ کر اس کا فون چھین لیا چند لمحوں بعد گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا اور ایزل کو گاڑی کے اندر دھکیل دیا گیا جس کے کانوں میں اپنے دل کی دھڑکن گونج رہی تھی۔۔۔

Download Novel PDF

Download Link 1 — MediaFireDownload Link 2 — Google Drive

Read Novel Online

Join WhatsApp Channel

Description — Urdu

بازیِ خطر ایک سنسنی خیز رومانی اور مافیا بیسڈ اردو ناول ہے جس میں ایک معصوم، شوخ اور بے فکر یونیورسٹی طالبہ کا معمولی سا مذاق اسے ایک ایسے خطرناک شخص کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے جس کے نام سے طاقتور لوگ بھی خوف کھاتے ہیں۔
ایزل فاطمہ خان ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ اپنی دوستوں ماہ نور، حوریہ اور ایمان کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔
ایک دن یونیورسٹی کے لان میں بیٹھی چاروں سہیلیوں نے وقت گزارنے کے لیے اجنبی نمبروں پر فون کرکے لوگوں کو پریشان کرنے کا منصوبہ بنایا۔
ابتدا میں یہ سب ایک بے ضرر شرارت محسوس ہو رہی تھی۔
کوئی لاٹری جیتنے کی خبر سنا رہا تھا تو کوئی بے تکی باتیں کرکے سامنے والے کو الجھا رہا تھا۔
لیکن جب ایزل کی باری آئی تو اس نے ایک ایسا نمبر ملا دیا جس نے اس کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔
فون کے دوسری طرف موجود شخص کوئی عام آدمی نہیں تھا۔
وہ ریحان شاہ تھا۔
جرائم کی دنیا کا ایک انتہائی طاقتور، بے رحم اور خطرناک گینگسٹر، جس کے سامنے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے افراد بھی محتاط رہتے تھے۔
ریحان اس وقت اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ ایک خفیہ کاروباری کھیپ کے بارے میں گفتگو کر رہا تھا۔
ایزل نے مذاق میں اسے بتایا کہ اس کی تمام خفیہ معلومات اور اگلی کھیپ کی تفصیلات اس کے پاس موجود ہیں۔
وہ بے خبر تھی کہ اتفاقاً اس نے جس معاملے کا ذکر کیا ہے، وہ حقیقت میں ریحان کے لیے نہایت حساس تھا۔
اس کے چند جملوں نے ریحان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کہیں اس کے اپنے لوگوں میں کوئی غدار تو موجود نہیں؟
یا پھر یہ لڑکی پولیس اور خفیہ اداروں کی کسی کارروائی کا حصہ ہے؟
ایزل نے فون بند کیا تو اپنی دوستوں کے ساتھ ہنستی رہی، لیکن دوسری طرف ریحان نے فوراً اس نمبر کی مکمل معلومات حاصل کرنے کا حکم دے دیا۔
کچھ ہی دیر میں اس کے سامنے ایزل فاطمہ خان کی تصویر، یونیورسٹی اور خاندانی معلومات موجود تھیں۔
ریحان نے حکم دیا کہ صبح ہونے سے پہلے اس لڑکی کو اس کے سامنے پیش کیا جائے۔
دوسری طرف ایزل کو اندازہ تک نہیں تھا کہ اس کی ایک شرارت کس قدر خطرناک ثابت ہونے والی ہے۔
اسی شام وہ اپنی دوست ماہ نور کے گھر سے واپس جا رہی تھی۔
آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے اور اچانک موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔
سنسان سڑک پر اس کی اسکوٹی خراب ہو گئی۔ موبائل کا نیٹ ورک بھی کمزور تھا اور آس پاس مدد کرنے والا کوئی موجود نہیں تھا۔
اسی دوران ایک گاڑی اس کے قریب آ کر رکی۔
دو اجنبی آدمی باہر نکلے اور ایزل کی تصویر سے اس کی شناخت کی تصدیق کرنے لگے۔
ایزل خطرہ بھانپ کر بھاگی، لیکن ان میں سے ایک نے اس کی کلائی پکڑ لی۔
اس کی مدد کے لیے بلند ہوتی آواز بارش کی گرج میں دب گئی۔
اگلے ہی لمحے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔
جس لڑکی نے چند گھنٹے پہلے مذاق میں ایک اجنبی شخص کو دھمکایا تھا، اب وہ اسی شخص کے آدمیوں کی گرفت میں تھی۔
ایزل جب ریحان شاہ کے سامنے پہنچی تو اس نے خوفزدہ ہو کر اپنی غلطی تسلیم کی اور بتایا کہ اسے اس کے جرائم کے بارے میں حقیقتاً کچھ معلوم نہیں تھا۔
لیکن ریحان کے لیے اس کے الفاظ پر یقین کرنا آسان نہیں تھا۔
اسے شک تھا کہ ایزل کوئی اہم راز چھپا رہی ہے۔
اور پھر فارم ہاؤس پر اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔
خوف اور دہشت کے عالم میں ایزل اپنے حواس کھونے لگی، جبکہ ریحان شاہ اس کے بالکل قریب موجود تھا۔
آخر ایزل کے بے سوچے سمجھے مذاق نے کس خطرناک حقیقت کو چھیڑ دیا تھا؟
کیا ریحان شاہ اس کی بے گناہی پر یقین کرے گا؟
فارم ہاؤس پر حملہ کرنے والے کون تھے؟
اور ایک معصوم یونیورسٹی طالبہ اس بے رحم گینگسٹر کی خطرناک دنیا سے کیسے نکل پائے گی؟
بازیِ خطر ایک غلط نمبر، خفیہ جرائم، اغوا، خوف اور غیرمتوقع حالات پر مبنی سنسنی خیز کہانی ہے۔

Summary — Urdu

بازیِ خطر ایزل فاطمہ خان اور ریحان شاہ کی کہانی ہے، جن کی پہلی ملاقات سے پہلے ہی ایک معمولی شرارت خطرناک صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔
ایزل ایک شوخ اور بے فکر یونیورسٹی طالبہ ہے جو اپنی دوستوں ماہ نور، حوریہ اور ایمان کے ساتھ مل کر اجنبی نمبروں پر مذاقیہ فون کالز کرنے کا منصوبہ بناتی ہے۔
لیکن ایزل جس شخص کو فون کرتی ہے وہ ریحان شاہ ہوتا ہے، ایک ایسا طاقتور گینگسٹر جس کی جرائم پیشہ دنیا میں بے حد دہشت ہے۔
ایزل اسے مذاق میں بتاتی ہے کہ اس کی خفیہ کھیپ اور غیرقانونی سرگرمیوں کی معلومات اس کے پاس موجود ہیں۔
اتفاق سے ریحان واقعی ایک حساس خفیہ کھیپ کے بارے میں گفتگو کر رہا ہوتا ہے۔
اس لیے وہ ایزل کی بات کو معمولی مذاق سمجھنے کے بجائے اپنے خلاف کسی سازش کا حصہ تصور کرتا ہے۔
ریحان اپنے آدمیوں کو ایزل کی معلومات حاصل کرنے اور اسے اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیتا ہے۔
اسی شام ایزل اپنی دوست کے گھر سے واپس آ رہی ہوتی ہے کہ موسلادھار بارش میں اس کی اسکوٹی خراب ہو جاتی ہے۔
سنسان سڑک پر ریحان کے آدمی اسے گھیر لیتے ہیں اور زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے جاتے ہیں۔
بعد میں ریحان کے سامنے ایزل اپنی غلطی تسلیم کرتی ہے اور اسے یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ اس کے بارے میں حقیقتاً کچھ نہیں جانتی۔
لیکن ریحان اس کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔
اسی دوران فارم ہاؤس پر اچانک فائرنگ شروع ہو جاتی ہے اور ایزل خوف کے باعث بے ہوش ہونے لگتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ریحان اس کی بے گناہی تسلیم کرے گا یا اس کی زندگی مزید خطرات میں گھر جائے گی؟

Related Keywords

Baazi e Khatar Novel21048 Novel, Baazi e Khatar Novel21048 Urdu Novel, Baazi e Khatar Novel21048 PDF

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Frequently asked questions

Who wrote Baazi e Khatar Novel21048 — Novelistan?

Baazi e Khatar Novel21048 — Novelistan is written by Novelistan.

Is Baazi e Khatar Novel21048 — Novelistan complete or ongoing?

The recorded status of this novel is Complete.

What categories is this novel listed under?

This novel is listed under Complete Urdu Novel and Gangster Based.

Where can I read Baazi e Khatar Novel21048 — Novelistan?

The reading content is available in the Read online section of this page.

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *